حزیں لدھیانوی
غزل 18
اشعار 6
آؤ مل بیٹھ کر ہنسیں بولیں
نہیں معلوم کب جدا ہو جائیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
طلوع ہوگا ابھی کوئی آفتاب ضرور
دھواں اٹھا ہے سر شام پھر چراغوں سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری
اگرچہ مل گئے دیہات آ کے شہروں سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تندیٔ سیل وقت میں یہ بھی ہے کوئی زندگی
صبح ہوئی تو جی اٹھے، رات ہوئی تو مر گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جو پا لیا تجھے میں خود کو ڈھونڈنے نکلا
تمہارے قرب نے بھی زخم نارسائی دیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے