اقبال صفی پوری کے اشعار
مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا
جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے
کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے میخانے کا
آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا
چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے
راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا
کون جانے کہ اک تبسم سے
کتنے مفہوم غم نکلتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
در محبوب ہے اپنا تو کنارا اقبالؔ
بے سہارا ہوئے تو ڈوب کے جانا ہوگا
-
موضوع : سہارا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کہیں بے ترک کدورت بھی ملے ہیں دو دل
در بنانا ہے تو دیوار کو ڈھانا ہوگا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اقبالؔ ہمارا جوش طلب کیا جانے کدھر لے جائے گا
نکلے ہیں تلاش منزل میں اور راہ گزر معلوم نہیں
ہم کو تجدید ملاقات سے کب ہے انکار
لیکن اب پہلے انہیں ہاتھ بڑھانا ہوگا
ممکن ہو تو اک لمحے کو ذرا تکلیف تبسم کر لیجے
ہم میں سے ابھی تک کتنوں کو مفہوم سحر معلوم نہیں
-
موضوع : التجا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ