Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Iqbal Safipuri's Photo'

اقبال صفی پوری

1921 - 1999 | کراچی, پاکستان

غزل اور نعت کے معروف شاعر، جگر مراد آبادی کے شاگرد، اپنے کلام ’’دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں‘‘ کے لیے مشہور

غزل اور نعت کے معروف شاعر، جگر مراد آبادی کے شاگرد، اپنے کلام ’’دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں‘‘ کے لیے مشہور

اقبال صفی پوری کے اشعار

مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا

جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے

کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے میخانے کا

آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے

راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا

کون جانے کہ اک تبسم سے

کتنے مفہوم غم نکلتے ہیں

در محبوب ہے اپنا تو کنارا اقبالؔ

بے سہارا ہوئے تو ڈوب کے جانا ہوگا

کہیں بے ترک کدورت بھی ملے ہیں دو دل

در بنانا ہے تو دیوار کو ڈھانا ہوگا

اقبالؔ ہمارا جوش طلب کیا جانے کدھر لے جائے گا

نکلے ہیں تلاش منزل میں اور راہ گزر معلوم نہیں

ہم کو تجدید ملاقات سے کب ہے انکار

لیکن اب پہلے انہیں ہاتھ بڑھانا ہوگا

ممکن ہو تو اک لمحے کو ذرا تکلیف تبسم کر لیجے

ہم میں سے ابھی تک کتنوں کو مفہوم سحر معلوم نہیں

Recitation

بولیے