خواب، حقیقت اور علامت: میراجی کا نفسیاتی اور شعری طریقِ کار
میراجی نے فرائڈ کے نظریات اور فرانسیسی اشاریت پسندوں سے متاثر ہو کر اردو شاعری کو نئے علامتی اور نفسیاتی سانچوں سے روشناس کرایا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں
غم بھی راس آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریں
میرؔ ملے تھے میراجیؔ سے باتوں سے ہم جان گئے
فیض کا چشمہ جاری ہے حفظ ان کا بھی دیوان کریں
آئے دن دنیا اور زندگی کے جھمیلے ہمیں اپنے میں ایسا الجھاتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر ایک تھکن بری طرح قابو پا لیتی ہے۔ ہمیں کوئی بات بھلی نہیں معلوم ہوتی۔ ہم اپنے کٹھن حالات سے پنپنے کے قابل نہیں رہتے۔ ایسے میں گیت ہی ہیں کہ ہمیں ان بندھنوں سے چھڑاتے ہیں اور تازہ دم کرکے پھر سے دنیا اور زندگی کے جھمیلوں کے مقابل انہیں جیت لینے کو لا کھڑا کرتے ہیں۔
میراجی نے فرائڈ کے نظریات اور فرانسیسی اشاریت پسندوں سے متاثر ہو کر اردو شاعری کو نئے علامتی اور نفسیاتی سانچوں سے روشناس کرایا۔
میراجی نے ہندو دیومالا اور بھکتی روایت کو محض مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ ایک گہرے تخلیقی اور ثقافتی تجربے کے طور پر اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔