راشد طراز
غزل 21
اشعار 3
لوگ پتھر کے تھے فریاد کہاں تک کرتے
دل کے ویرانے ہم آباد کہاں تک کرتے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کچھ تو ہو جاتی تسلی دل پژمردہ کو
گھر کی ویرانی جو سامان تماشا ہوتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ساری رونق ترے ہونے کے یقیں میں ہے نہاں
تو نہ ہوتا تو بھلا کاہے کو دنیا ہوتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے