سحر انصاری
غزل 28
نظم 11
اشعار 16
عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل
کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یہ مرنا جینا بھی شاید مجبوری کی دو لہریں ہیں
کچھ سوچ کے مرنا چاہا تھا کچھ سوچ کے جینا چاہا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
شاید کہ وہ واقف نہیں آداب سفر سے
پانی میں جو قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہا تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیز
یہی بے رنگ سی دنیا یہی بے مہر سے لوگ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے