سالم سلیم
غزل 96
نظم 1
اشعار 54
اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے
مرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
بھرے بازار میں بیٹھا ہوں لیے جنس وجود
شرط یہ ہے کہ مری خاک کی قیمت دی جائے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
چٹخ کے ٹوٹ گئی ہے تو بن گئی آواز
جو میرے سینہ میں اک روز خامشی ہوئی تھی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
میں گھٹتا جا رہا ہوں اپنے اندر
تمہیں اتنا زیادہ کر لیا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اک برف سی جمی رہے دیوار و بام پر
اک آگ میرے کمرے کے اندر لگی رہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
نعت 1
کتاب 266
تصویری شاعری 2
ویڈیو 12
This video is playing from YouTube
