سعود عثمانی
غزل 23
اشعار 29
حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی
جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی
جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے