Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shauq Qidvai's Photo'

شوق قدوائی

1853 - 1925

شوق قدوائی

غزل 14

اشعار 4

اترا کے آئینہ میں چڑھاتے تھے اپنا منہ

دیکھا مجھے تو جھینپ گئے منہ چھپا لیا

  • شیئر کیجیے

یہ دل کی بات ہی منہ سے ادا نہیں ہوتی

میں کیا کہوں کہ یہاں بار بار کیوں آیا

مسئلہ کثرت میں وحدت کا ہوا حل تم سے خوب

ایک ہی جھوٹ اور تمہارے لاکھ اقراروں میں ہے

جنون کو وہ بناوٹ سمجھ رہا ہے ابھی

یہ سن لیا ہے کسی سے کہ میرے گھر بھی ہے

کتاب 8

 

Recitation

بولیے