شیخ ابراہیم ذوقؔ
غزل 61
اشعار 75
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
قطعہ 4
کتاب 45
تصویری شاعری 16
تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔ ہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہے اور اگر تو ہی برا ہے تو وہ سچ کہتا ہے کیوں برا کہنے سے تو اس کے برا مانتا ہے
آڈیو 14
آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے
اک صدمہ درد_دل سے مری جان پر تو ہے
متعلقہ شعرا
دیگر شعرا کو پڑھیے
-
مرزا غالب
-
انشا اللہ خاں انشا
-
حاتم علی مہر
-
حیدر علی آتش
-
بہادر شاہ ظفر
-
مصحفی غلام ہمدانی
-
اسد علی خان قلق
-
شاہ نصیر
-
خواجہ محمد وزیر
-
میر کلو عرش
-
عبدالرحمان احسان دہلوی
-
سید یوسف علی خاں ناظم
-
مومن خاں مومن
-
مرزا محمد تقی ہوسؔ
-
سخی لکھنوی
-
حسرتؔ موہانی
-
وزیر علی صبا لکھنؤی
-
میر تقی میر
-
آغا حجو شرف
-
شہیر مچھلی شہری