وحید عرشی
غزل 4
اشعار 4
بھاگ چلوں یادوں کے زنداں سے اکثر سوچا لیکن
جب بھی قصد کیا تو دیکھا اونچی ہے دیوار بہت
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دل کا سارا درد سمٹ آیا ہے میری پلکوں میں
کتنے تاج محل ڈوبیں گے پانی کی ان بوندوں میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
غم حیات کی کیلیں تھیں دست و پا میں جڑیں
تمام عمر رہے ہم صلیب پر لٹکے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ارماں کے تابوت میں جب میں وقت کی کیلیں گاڑ چکوں گا
پھر جب بھی تم یاد آؤ گے بہہ جاؤ گے اشکوں میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے