Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ڈھاک بن

صدیق عالم

ڈھاک بن

صدیق عالم

MORE BYصدیق عالم

    کہانی کی کہانی

    یہ افسانہ جدید سماج کے ساتھ قبائلی تصادم کی جادوئی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ وہ لوگ کانا پہاڑ کے باشندے تھے۔ اسے کانا پہاڑ اس لئے کہتے تھے کیونکہ جب سورج اس کی چوٹی کو چھو کر ڈوبتا تو کانی آنکھ کی شکل اختیار کر لیتا۔ کانا پہاڑ کے بارے میں بہت ساری باتیں مشہور تھیں۔ اس پر بسے ہوے چھوٹے چھوٹے قبائلی گاؤں اب اپنی پرانی روایتوں سے ہٹتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ پر عیسائی مشنری حاوی ہوگئے ہیں اور کچھ نے ہندو دیوی دیوتاؤں کو اپنا لیا ہے۔ مگر جو افواہ سب سے زیادہ گرم تھی اور جس نے لوگوں کو مضطرب کر رکھا تھا وہ یہ تھی کہ اب کانا پہاڑ سے روحیں منتقل ہو رہی ہیں۔ وہ یہاں کے لوگوں سے ناخوش ہیں اور ایک دن آئے گا جب پہاڑ کے گربھ سے آگ اْبلے گی اور پیڑ پودے گھر اور پرانی اس طرح جلیں گے جس طرح جنگل میں آگ پھیلنے سے کیڑے مکوڑے جلتے ہیں۔

    جھرنا ہیمبرم کی آنکھوں میں سیلن بہت آسانی سے اترتی تھی۔ اتنی آسانی سے کہ صبح نیند سے جاگ کر دونوں پپوٹوں کو الگ کرنے کے لیے اسے انگلیوں کا اچھا خاصا زور لگانا پڑتا۔ آج تو اس کی داہنی آنکھ آدھی ہی کھل پائی تھی اور اسی حالت میں وہ ادھر ادھر گھوم رہی تھی، صبح کے کام کاج کر رہی تھی، سور کی ناند صاف کررہی تھی اور اس کی داہنی آنکھ میں تھا کہ دن گھستا چلا آ رہا تھا۔ اسے کسی طور اس آنکھ کو پورا کھولنا ہوگی تاکہ آسانی سے بند کر سکے۔ اس نے کئی بار کوشش کی مگر پپوٹوں کے کنارے پھر بھی جڑے رہے۔ آخر میں تھک کر اس نے ایک بیڑی سلگا لی جسے وہ خود بناتی تھی، اور بھک بھک دھواں نکالتے ہوے اپنے مجروح دانتوں سے تنکے کھینچ کھینچ کر بانس کی ٹوکری بننے لگی۔ اس کے بیٹے رائسن ہیمبرم کو شہر نے مانگ لیا تھا اور اب وہ ریل کی پٹری کے کنارے کنارے اپنے ہتھوڑے اور دوسرے اوزار لے کر گھومتا۔ اس کے شوہر منگرو نے مہوے کا ٹھرا پی پی کر اپنا پیٹ اتنا بڑا کر لیا تھا کہ اسے شہر کے سرکاری اسپتال میں اندر سے چیر کر ٹھیک کرنا پڑا۔ مگر پھر وہ زیادہ دن تک زندہ نہ رہ پایا۔ اس نے اتنا غصہ اپنے اندر بھر لیا تھا کہ وقت سے پہلے ہی بوڑھا ہو گیا تھا۔ ایک دن اس نے اپنی رکھیل آرتی سردار کو اتنا مارا اتنا مارا کہ وہ ادھ موئی ہو گئی۔ اس دن گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ منگرو شرابی ہو گیا ہے اور منگرو مرنے والا ہے اور اب منگرو کسی بھی دن جنگلی بد روحوں کے شکنجے میں ہوگا جو اسے اڑا کر ڈھاک کے جنگل میں لے جائیں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پیڑوں کے کھوکھلوں میں بھٹکتا رہےگا اور راہ گیروں پر عجیب و غریب چہرے بناتا رہےگا۔

    ایک دن منگرو کا بھوت آئےگا! جھرنا ہیمبرم خود سے کہہ رہی تھی اور وہ ہر کام آسان کر دےگا۔ وہ سوروں کے طویلے میں رہنا شروع کر دےگا اور سوروں کی گرمی بڑھ جائےگی۔ وہ مرغیوں کے ڈربے میں رہنا شروع کر دےگا اور ان کے ٹونگنے لیے ہرے پتے پیڑپودوں اور جھاڑیوں کے نچلے حصوں میں اگائےگا اور سلائی کنڈ کے بڑے پتھر سے پھوٹتے جھرنے میں پانی ہی پانی ہوگا۔ میں نے منگرو کے لیے سجنا کے کھوکھل صاف کروائے ہیں تاکہ اپنے آرام کے لیے اسے ڈھاک کے جنگل کی طرف لوٹنا نہ پڑے بلکہ انھیں میں سے کسی میں وہ آرام سے لیٹا رہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح جب وہ زندہ تھا لیٹا رہتا تھا۔

    وہ لوگ کانا پہاڑ کے باشندے تھے۔ اسے کانا پہاڑ اس لیے کہتے تھے کیونکہ جب سورج اس کی چوٹی کو چھو کر ڈوبتا تو کانی آنکھ کی شکل اختیار کر لیتا۔ کانا پہاڑ کے بارے میں بہت ساری باتیں مشہور تھیں۔ مثلاً اس پر بسے ہوے چھوٹے چھوٹے قبائلی گاؤں اب اپنے پرانے رکھ رکھاؤ سے ہٹتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ پر عیسائی مشنری حاوی ہو گئے ہیں اور کچھ نے ہندو دیوی دیوتاؤں کو اپنا لیا ہے۔ مگر جو افواہ سب سے زیادہ گرم تھی اور جس نے لوگوں کو مضطرب کر رکھا تھا وہ یہ تھی کہ اب کانا پہاڑ سے روحیں منتقل ہو رہی ہیں۔ وہ یہاں کے لوگوں سے ناخوش ہیں اور ایک دن آئےگا جب پہاڑ کے گربھ سے آگ ابلےگی اور پیڑ پودے گھر اور پرانی اس طرح جلیں گے جس طرح جنگل میں آگ پھیلنے سے کیڑے مکوڑے جلتے ہیں۔

    شاید یہی وجہ تھی کہ منگرو کے اندر اس قدر غصہ بھرا ہوا تھا۔

    اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ اپنے تیر اور بھالے تیز کیا کرتا۔

    مگر اس نے کبھی تیر نہیں چلائے، بھالا نہیں اٹھایا۔ وجہ بے وجہ مہوا پیتے پلاتے رہنا، ڈھلان میں ہفتہ وار ہاٹ میں مرغے لڑانا اور ہبا ڈبا کھیلنا جہاں سے وہ بہت سارے سکے جیت کر آتا اور کبھی کبھار ہار کر بھی۔ مگر جھرنا ہیمبرم جانے کیسی جادوگرنی تھی، دو وقت کا ابلا ہوا اناج اور گوشت اس کے برتن میں عین وقت پر دھرا ہوتا جن کی طرف منگرو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا، مگر کھائے جاتا، جیسے یہ سب کچھ اسے اچھا نہ لگ رہا ہو، جیسے اس کے اندر کی آتما اسے پھٹکار رہی ہو اور جب اس اندرونی ملامت سے وہ ہار جاتا تو آرتی کے پاس چلا جاتا۔ آرتی جو جانے انجانے کتنوں ہی کی مشترک رکھیل تھی اور جسے مہوے سے شراب کشید کرنے کا فن آتا تھا اور جس کا شوہر اسے ہر کسی کے پاس بیچنے کے لیے بےچین رہتا۔

    ’’بہت کراری بہو ہے، بس ایک باٹلی ٹھراسرکار اور دس روپے۔‘‘ وہ اکثر پہاڑی راستے سے گزرنے والے سیاحوں کی گاڑیوں کے سامنے دونوں ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہو جاتا۔ اس کی بغل میں آرتی سر جھکائے کھڑی رہتی، اپنی ہنسی چھپانے کی کوشش کرتی رہتی، اپنی ساڑی کے پلو کو منھ میں ٹھونستی جاتی۔

    ’’یہ شہری لوگ!‘‘ وہ دل ہی دل میں سوچتی۔

    اور جب جھرنا ہیمبرم اکیلی رہ گئی تو کتنوں نے ہی اسے گونے کی پیشکش کی۔ وہ ٹوکریاں اچھی بنتی تھی۔ اس کے جانور بیماری سے نہیں مرتے تھے اور جنگل کے ان گوشوں سے وہ بخوبی واقف تھی جہاں بدلتے موسموں کی مناسبت سے سوکھی لکڑیوں کی بہتات ہوتی۔ اس کے بالوں میں چاندی کے تار جاگنے لگے تھے اور اس جیسی تجربہ کار عورت کا سہارا کاہل قبائلیوں کی ہمیشہ کی ضرورت رہی ہے۔

    صرف جھرنا ہمبرم کوا ن کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی منگرو کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی تھی۔ صرف منگرو کہیں اور تھا اور وہ کہیں اور۔ جنگل میں کیکر، شہتوت اور بچھو متی کی جھاڑیوں میں جہاں سانپ اپنی کینچلی چھوڑ جاتے وہ منگرو کے پیروں کے نشان ڈھونڈتی۔ مگر پھر اسے یاد آتا، آتماؤں کے پیر نہیں ہوتے۔۔۔نہیں پیر تو ہوتے ہیں، مگر انھیں زمین پر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی جھرنا ہیمبرم خود بھی پریت آتما کی شکل اختیار کر لیتی اور اسے لگتا وہ کیکر کی جھاڑیوں پر بہ آسانی چل سکتی ہے۔ اس کے اندر اسے آزمانے کی ہمت تو نہ تھی مگر وہ آتماؤں کا مذاق بھی اڑانا نہیں چاہتی تھی۔

    جس دن رائسن اپنے سے بھی دگنی عمر کی ایک عورت کے ساتھ وارد ہوا جس سے اس نے بیاہ کر لیا تھا تو بڑے غصے میں دکھائی دیا۔ اس دن پہلی بار جھرنا ہیمبرم کو منگرو کی بہت ضرورت محسوس ہوئی۔ اسے پہلی بار لگا کہ وہ اکیلی ہو گئی ہے۔

    ’’یہ سب کچھ اب زیادہ دن نہیں چلنے کا،ماں!‘‘ رائسن نے گھر کے اندر قدم رکھنے سے پہلے ہی اعلان کردیا تھا۔ ’’اب زیادہ سمے نہیں ہے جب بواری ماں بنےگی اور ہمیں اگلے دنوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔‘‘

    ’’اگلے دن؟‘‘ جھرنا ہیمبرم نے معصومیت سے پوچھا۔

    ’’میرے ریلوے کوارٹر میں دو کمرے ہیں،‘‘رائسن نے سگریٹ سلگاتے ہوے کہا۔ وہ کھانس بھی رہا تھا۔ ’’اور بواری جب ماں بنےگی تو ہمیں کسی نہ کسی کی ضرورت تو ہوگی ہی۔ رہا ایک کمرہ تو اسے ہم کرائے پر دے سکتے ہیں۔‘‘

    دو ہفتے رائسن اور بواری جھرنا ہیمبرم کے ساتھ رہے۔ بواری اور جھرنا ہیمبرم کسی حد تک ہم عمر بھی کہی جا سکتی تھیں۔ اس لیے دونوں گھل مل گئیں۔ بواری کے کولھے پیچھے کی طرف نکلے ہوے تھے اور ا س کے سامنے کے تین دانت نقلی تھے جنھیں رات کے وقت کھول کر اسے پانی کے پیالے میں ڈبوکر رکھنا پڑتا تھا۔ وہ بار بار اپنے دونوں کان جھاڑتی اور نقلی دانتوں سے ہنستی۔

    ’’میرا باپ شروع میں میرے بیاہ سے خوش نہیں تھا جیسا کہ میرے باپ کو ہونا چاہیے۔ وہ میرے لیے اور بھی اونچے سپنے دیکھتا تھا۔ مگر میری سوتیلی ماں نے میرا ساتھ دیا۔ ہم نے ہنومان چوک کے مندر میں شادی کی۔ میری تین بہنیں ہیں اور سب کی سب میری ہی طرح سندر ہیں۔ ہمیں بَروں کا کیا کال ہے۔‘‘

    جھرنا ہیمبرم زیادہ تر اس کی باتوں کا سرا ٹھیک سے پکڑ نہ پاتی۔ مگر پھر بھی اسے پتا تو تھا کہ اس کے بیٹے کی بہو اپنے دل کا بوجھ اس کے سامنے ہلکا کر رہی ہے۔ رائسن تو جھونپڑی سے تھوڑی دور بانس کے جھنڈ کے سامنے بچھی چار پائی پر لیٹا لیٹا سگریٹ پھونکتا رہتا اور اپنی انگلیاں چٹخاتا رہتا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں دس سال پہلے تک چیتا اور بن سور آیا کرتے تھے۔

    ’’ارے، یہ سب کتنی بکواس ہے،‘‘وہ بیچ بیچ میں چلا اٹھتا۔ ’’اس کانا پہاڑ میں ڈھنگ سے جینے کا کچھ تو سادھن ہونا چاہیے۔‘‘

    بواری ضرورت سے زیادہ کھاتی تھی اور اسے ہر وقت لوٹا لے کر جھاڑیوں کے پیچھے گڑھیا کی طرف جانا پڑتا۔

    ’’مجھے تو لگتا ہے ماں، مجھے جلد سے جلد اسے پیٹنا شروع کر دینا چاہیے،‘‘ رائسن ماں کو آنکھ مار کر کہتا۔ ’’اس جیسی عورت کے لیے اس سے بہتر اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ مگر اس کا باپ سالا انجن کا خلاصی تھا جو اسٹیم انجن سے ریٹائر تو ہو چکا ہے مگر انگاروں کی سی آنکھیں رکھتا ہے۔ صرف بواری اس سے نہیں ڈرتی اور اس کی یہی بات تو مجھے بھاتی ہے۔‘‘

    گاؤں میں جتنے بھی جھونپڑے تھے سب ایک دوسرے سے الگ الگ مختلف اونچائیوں پر کھڑے تھے۔ ایک دو جگہ باڑ کے اندر مکئی اور سورج مکھی کے پودے تھے۔جھرنا ہیمبرم کے کتے تھنبانے بواری کو شروع سے ناپسند کر دیا تھا۔ وہ بلا جھجھک دور کھڑا اس پر بھونکتا رہتا۔ سور ناند میں چھینکتے رہتے، جھرنا ہیمبرم ٹوکری بنتی رہتی اور رائسن چارپائی پر سگریٹ کی ٹیڑھی راکھ کو دھیرے دھیرے ہوا میں منتشر ہوتے دیکھتا رہتا۔

    واقعی یہ سب کوری بکواس ہے، وہ دل ہی دل میں سوچتا اور اس کتے کو مہمانوں کی قدر کرنی چاہیے۔ میری غیرحاضری میں اس گھر کا تو کباڑا ہی ہو گیا ہے گویا۔ بڑھؤ کے مرنے کے بعد کچھ بھی تو نہیں سدھرا ہے یہاں۔

    اور دو ہفتے بعد، رائسن ہیمبرم اپنی بیوی بواری اور ماں جھرنا ہیمبرم کو لے کر گاؤں سے چلا گیا۔

    اور بس میں تین گھنٹے اور رکشا میں پندرہ منٹ کے سفر کے بعد تینوں ریلوے کے ایک پرانے کوارٹر کے دروازے پر پہنچ گئے جس کی قدیم طرز کی محرابی چھت پر جھاڑیاں اور پیپل کے پودے اگے ہوے تھے۔ یہاں آنکھوں کے سامنے ریلوے کی پٹریاں چمک رہی تھیں اور جھرنا ہیمبرم کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ کوئلہ جلانے کا اتنا تیز دھواں جانے کہاں سے پھیل رہا تھا اور یہاں پیڑ پودوں پر ایک عجیب سی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ زمین توے کی طرح سپاٹ اور سیاہ تھی اور جدھر بھی نظریں اٹھاؤ صرف کوے ہی کوے تھے اور انسان ہی انسان جو کوؤں کی طرح ہی غلیظ تھے اور کالک سے لپٹے ہوے انھیں کی طرح ڈھیٹ نظر آرہے تھے۔ پہلے دن سے ہی جھرنا ہیمبرم کو گھر کا پورا کام کاج سنبھالنا پڑا اور چونکہ کرایہ دار ابھی مل نہ پایا تھا رائسن نے دوسرے کمرے پر تالا دے رکھا تھا۔ اس لیے جھرنا ہیمبرم کو اپنا بستر باورچی خانہ کے دروازے کے پاس آدھے گھرے ہوے برآمدے پر لگانا پڑا جہاں سے پٹریوں کے اوپر پھیلے ہوے کالک زدہ تار اور تاروں بھرا آسمان دکھائی دیتے تھے۔

    اندر کمرے سے بواری اور رائسن کے کھلکھلاکر ہنسنے، چومنے اور ایک دوسرے کو پیار بھری فحش گالیوں سے نوازنے کی آوازیں آتی رہتیں۔ آدھی رات سے قبل دونوں باری باری سے جھرنا ہیمبرم کے سوتے ہوے جسم کو لانگھ کر غسل خانے کے اندر جاتے۔ مگر جھرنا زیادہ تر وقت جاگتی رہتی اور ایسے اوٹ پٹانگ وقت میں سوجاتی جب بواری کو اس کی ضرورت ہوتی۔

    ’’جب سے کوارٹر آئی ہے، بڑھیا کو تو مزہ ہی مل گیا ہے،‘‘ بواری کوسنے دیتی۔ ’’ڈھنگ سے دو وقت کا کھانا بنانا تو آتا نہیں، پسر کر یوں سوتی ہے جیسے سارا جگ جیت کر آئی ہو۔‘‘

    اب تو رائسن نے نل سے پانی لانا بند کر دیا تھا۔ نل پر پانی کے لیے بڑا ہنگامہ ہوتا۔ اکثر جھرنا خالی ڈول کے ساتھ واپس لوٹتی اور اس پر بواری کا عتاب نازل ہوتا۔

    ’’غیر کو تو آدمی گالی بھی دے لے، مگر اپنے پر کیسے تھوکے؟‘‘ بواری اپنے خصم کو سناتی۔ ’’اجی میں تو کہتی ہوں، آپ تو ادھر توجہ دیتے ہی نہیں، بس اکیلے مجھے ہی جھیلنا پڑتا ہے۔ بڑھیا تو خالی ڈول لے کر واپس آ جاتی ہے اور مجھے نل پر جاکر گالی گلوج کرنی پڑتی ہے۔‘‘

    ’’سب بکواس سن رہا ہوں میں،‘‘ رائسن کہتا۔ ’’میرا خیال ہے بڑھیا جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتی۔ جلد ہی سیکھ جائےگی۔ ارے اب اس میں چلانے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ تم بواری بس جلد سے جلد ایک بچہ دے دو، یہ گھر بھر جائےگا۔ کیوں نہ آج ہم ایک نیا طریقہ اپنائیں؟‘‘

    اور پچھلے پورے دو سال سے دونوں اسی کوشش میں تو مصروف تھے۔جھرنا ہیمبرم کے آنے کے بعد اب تو دن میں بھی وہ ایک آدھ کوشش کر لیتے۔ فرصت کے وقت جھرنا کوارٹر کے دروازے کے باہر اکڑوں بیٹھی زمین پر کسی تنکے سے لکیریں کھینچتی رہتی، ٹرینوں کو گزرتے دیکھتی رہتی۔ اسے دھواں اگلتے ہوے اسٹیم انجن زیادہ اچھے لگتے جن کے ڈرائیور سر پر غلیظ رومال باندھے رہتے اور اس عجیب و غریب بڑھیا کی طرف تاکتے رہتے جسے اس شہر کی بھاشا بھی نہیں آتی تھی۔ پٹریوں پر بھاگتے کتوں کو دیکھ کر اسے اپنا تھنبا یاد آ جاتا۔ سوروں کو تو اس نے پڑوسیوں کو امانت کے طور پر سونپ دیا تھا، مگر تھنبا کو کون سنبھالتا! کتنی دور تک وہ پہاڑی راستے پر بھاگتا آیا تھا اور بس کے پیچھے پیچھے اس نے دوڑ بھی لگائی تھی۔ اسے یاد کرکے جھرنا کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے اور وہ دبی دبی آواز میں کوئی پہاڑی گیت گانے لگتی جسے وہاں کوئی سمجھ نہ پاتا، یہاں تک کہ اندر سے بواری کی پکار سنائی دیتی۔

    ’’بڑھیا، باہر کیا خصم پھانس رہی ہے کہ اب تک آنکھیں سٹی ہوئی ہیں؟ کتنا درد ہے میرے بدن میں۔ مگر کوئی مجھے اپنی بیٹی کی نظر سے دیکھے تب نا!‘‘

    رات کو اکثر رائسن دیر سے شراب پی کر لوٹتا اور باورچی خانے کے دروازے پر پڑے ہوے جسم سے اسے چڑ ہو جاتی۔

    ’’جی چاہتا ہے ایک لات جماؤں اسے۔ یہ بھی سونے کا کوئی وقت ہے ماں؟ اور کھانا کون کھلائےگا؟ یہ سب تیرے کارن ہے کہ بواری کے پیٹ میں بچہ ٹھہر نہیں پا رہا ہے۔‘‘

    ’’اور کیا!‘‘ بواری اندر سے تائید کرتی۔ ’’ذرا سمجھاؤ اسے، کبھی جو مالش کا تیل گرم کر کے میرے بدن پر لگایا ہو۔ میری تو کمر کا درد بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘

    ’’ارے گھبرانے کی بات نہیں، پہلے کچھ کھا لینے دو، بڑی بھوک لگی ہے۔ پھر میں تیری کمر کا درد ٹھیک کر دیتا ہوں۔ میرے پاس ایک خاص نسخہ ہے،‘‘ رائسن آنکھ مار کر کہتا۔ ’’اور ذرا دیکھ، کیا لایا ہوں تیرے لیے۔ بہت ہی خستہ مال پوے ہیں۔ پسند ہیں نا تجھے؟ پر اتنا بھی نہ کھا لینا کہ پھر سے لوٹا لے کر دوڑنا پڑے۔‘‘

    ’’ارے، میرے پیٹ میں تو کچھ پچتا ہی نہیں۔‘‘

    ’’اس کی ضرورت ہی کیا ہے، گھر کے اندر سنڈاس جو ہے۔‘‘

    کبھی کبھی بواری باپ کے گھر چلی جاتی۔ اس وقت گھر میں سناٹا رہتا اور دونوں ماں بیٹے کی دیرینہ محبت لوٹ آتی۔

    ’’ارے اماں، بواری سے کہوں گا اب کے