Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خدا کا بھیجا ہوا پرندا

صدیق عالم

خدا کا بھیجا ہوا پرندا

صدیق عالم

MORE BYصدیق عالم

    کہانی کی کہانی

    یہ حقائق اور خیالی تصورات پر مبنی بنی نوع انسان کی اصل دنیا سے متعارف کراتی کہانی ہے۔ انگریز ملک چھوڑ کر جا چکے تھے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی مشرقی پاکستان کا رخ کر چکی تھی۔ بستی میں چند ہی مسلمان رہ گئے تھے جو اب تک راوی کے دادا کی دو منزلہ عمارت سے آس لگائے بیٹھے تھے اور جب بھی شہر میں فساد کا بازار گرم ہوتا پناہ لینے کے لئے آ جاتے۔ اس کے دادا کو اس بات کا دکھ تھا کہ آئے دن انھیں پاکستانی جاسوس ہونے کے الزام کا سامنا کرنے کے لئے تھانہ جانا پڑتا۔ پھر ایک دن فسادیوں نے انھیں اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر مار ڈالا۔ اس کے دادا کے گھر میں کئی کرایہ دار رہتے تھے جن میں ایک کرایہ دار بدھ رام تھا جو دادا کے ساتھ لمبے عرصے تک ریلوے میں نوکری کر چکا تھا۔ اس کی ساری زندگی کا اثاثہ ایک ٹرنک کے اندر بند تھا جس پر بیٹھے بیٹھے وہ کھڑکی سے باہر آسمان پر نظریں ٹکائے رہنے کا عادی تھا۔ ان ہی تنہائی کے دنوں میں ایک دن اس نے ایک طوطے کی کہانی سنائی جس کے جسم پر اللہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ یہ طوطا ایک ادھیڑ عمر کی عورت اس کے پاس بیچنے آئی تھی، جسے دیکھتے ہی بدھ رام نے محسوس کیا کہ اب یہاں برا وقت آنے والا ہے۔

    یہ پرانا اسٹیشن جس کی محرابوں سے آج بھی چمگادڑیں لٹکتی ہیں، میں نے ہمیشہ اس کے باہر سن رسیدہ بدھ رام کو اپنا انتظار کرتے پایا ہے۔ مگر اس سے پہلے میں آپ کو اس شہر میں آنے کا مقصد بتا دوں۔

    پچیس برس پہلے میرے دادا جان اس اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر فسادیوں کے ذریعے مار ڈالے گئے۔ یہ میری پیدائش سے قبل کا واقعہ تھا، مگر ہوش سنبھالتے ہی ایک دن میرے ہاتھ میں دادا جان کی جیبی گھڑی آ گئی