aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رقص شرر

MORE BYقرۃالعین حیدر

    پارٹ وَن۔۔۔ کشتی پر

    جیسو مرایا!

    ہُم۔ جیسو مرایا !! (بالکل ولایتی ہو)

    اوہ۔ ادھر دیکھو ۔ چھتر منزل کے نیچے نیچے درختوں کے سائے میں گومتی کا رنگ کتنا گہرا سبز نظر آرہا ہے۔

    تمہاری آنکھوں کا رنگ بھی تو ایسا ہی ہے۔ دھندلا سا سبز اور چھلکتا ہوا جیسا۔

    ہوں۔

    کیسی۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ ۔۔۔نفیس بات ہے (در اصل مجھے اس سے بہتر اردو بولنی نہیں آتی۔)

    بہت نفیس۔۔۔ (افسوس کہ مجھے بھی نہیں آتی۔)

    کیوں کہ ہم دونوں ہندوستان کے ہو کر بھی ہندوستان کے نہیں ہیں۔

    نہیں ہیں! کس قدر بری بات ہے یہ!

    بے انتہا۔ غروبِ آفتاب کی خاموش قرمزی موسیقی کے ساتھ ساتھ کشتی کھیلنا تمہیں پسند آرہا ہے؟

    خاصا۔ (اے میرے گیتوں کے ملاّح!)

    اجازت دو کہ عرض کروں کہ کاش شفق کی سرخی پانیوں پر مچلتی رہے۔ شام کی دبیز ہوائیں تمہارے خوب صورت بال اسی طرح پریشان کرتی رہیں اور یہ کشتی ان نا معلوم آبی راستوں پر یوں ہی رواں رہے۔ (ٹیمز کی لہروں پر میں نے ان ہی الفاظ کا بہترین انگریزی ترجمہ کردیا تھا۔)

    میرا خیال نہیں۔

    اور جب میں نے تمہیں پہلی مرتبہ ۱۹۴۰ء کے جاڑوں میں مے فیئر بال روم کی اسٹیج پر سفید پھولوں کا تاج پہنے جنوبی اطالیہ کے ساحلوں کا رقص کرتے دیکھا تھا (جہاں تمہارے کالج کا ڈرامہ ’’ ماہی گیر کی لڑکی - پرل‘‘ کھیلا جارہا تھا) اور پھر پچھلے ہفتے جب تم پھلوں کے ڈبّے سنبھالے کینٹین سے نکل کر اپنی کار کی طرف بڑھ رہی تھیں۔

    بے حد طویل عبارتیں زبانی کہہ ڈالتے ہو۔ ذرا مختصر الفاظ میں اپنا مطلب بیان کرو۔

    ار۔۔۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ چھتر منزل کے سائے دریا پر پھیلتے جارہے ہیں اور میں بے انتہا خوش قسمت ہوں۔ ظاہر ہے۔۔۔

    شپ۔۔۔ شپ۔۔۔ شپ۔۔۔ شپ!

    تمہیں میرا شہر کیسا لگا؟

    اچھا ہے۔۔۔ خصوصاً نیو انڈیا کی بالکونی اور امبیسڈر۔ یہ پرسکون ندی اور وہ دوسرے کنارے پر بندھی ہوئی لمبی ناؤ کا سلہٹ اور کنارے پر پھونس کا گھر۔۔۔

    جناب! وہ ہمارے ہاں کا بوٹ کلب ہے۔

    تمہارے ہاں کا؟

    جی یونی ورسٹی کا ہماری۔

    اور وہ بے حد شان دار سا پُل؟

    موتی محل بِرج۔

    اسی پر سے رومان خوابوں کے گیت گاتا ہوا گزرتا ہے! معلوم نہیں۔

    شپ۔۔۔ شپ۔۔۔ شپ۔۔۔ شپ (پتوار کی آواز) چاروں طرف یہ سائے طویل ہوتے جارہے ہیں۔ فطرت کے یہ مبہم، بے معنی سے اشارے۔ ایک نظم سنو ۔ ہم تین دوست ہیں۔ میں اور میرا سایہ اور زرد چاند۔۔۔ شنتوفوؔ کی رات میں جب ستاروں کے دیوتا فیوجی کو کا مقدس بربط بجاتے ہیں تو میں چیری کے نیچے بیٹھ کر یاما شٹیاؔ کے چاول کی سرخ شراب پیتا ہوں۔ لیکن چاند اور میرا سایہ شراب نہیں پی سکتے۔ پھر میں شاماکوراؔ کے مندر میں واپس چلا آتا ہوں۔۔۔ ہم تین دوست ہیں۔ یہ جاپانی نظم تھی۔ چینی نظم سناؤں یا روسی!

    اف، خدا کے لیے چپ رہو۔

    شپ۔۔۔ چپ۔۔۔ شپ۔۔۔

    کیا سوچ رہی ہو؟

    کچھ نہیں۔ ارے یہ کون؟

    کہاں۔۔۔؟ آنکھوں کے پپوٹے بھاری، ہونٹوں پہ نشے کی دھاری، یہ کون آیا۔۔۔ یہ کون آیا؟

    بے حد لغو ہو!

    لیکن اس طرف اتنی دل چسپی سے کیا دیکھ رہی ہو۔ اس پھونس کے گھر کے نیچے سے کوئی رومال ہلا رہا ہے۔ ہوگا کوئی۔ وہ ہسپانوی نغمہ سنو جو سترھویں صدی کی۔۔۔ ارے وکٹر۔۔۔ قطعی وکٹر ہے۔۔۔ دیو آؤٹ کر رہا ہے بے چارہ اتنی دیر سے۔

    کون ہیں یہ بزرگ ؟

    وکی۔۔۔ وک۔۔۔ ٹر۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ شی۔۔۔ شی۔۔۔ شو۔ اس نے تمہاری آواز نہیں سنی۔ ہُنہ!

    وکی۔۔۔ آئی سے ۔۔۔ شُو شُو شُو (وہ بھی سیٹی بجارہا ہے۔ بہترین سیٹی بجاتا ہے۔)

    آخر یہ کون صاحب ہیں جن سے آپ اتنی بے تکلف ہیں۔

    وکٹر رونلڈ اجیت کمار سنگھ۔۔۔ لامارٹینر میں میرے ساتھ پڑھتا تھا۔

    بہرحال ایک تھرڈ کلاس اینگلو انڈین لڑکے کا تمہیں اس طرح رومال ہلانا میری نظروں میں سخت نا مناسب اور معیوب بات ہے۔

    کیا فرمایا آپ نے۔۔۔ تھرڈ کلاس۔۔۔ جنابِ والا وہ سر مہارانا سنگھ کا بھتیجا۔۔۔

    فوّہ۔۔۔

    شپ۔ شپ۔ چپ۔ شپ۔

    فوّہ۔۔۔ شوّہ۔۔۔

    لالہ!

    فرمائیے۔

    میں تم سے صمیم قلب سے معافی چاہتا ہوں۔

    اور میں آپ کو اسی صمیم قلب سے معاف کرتی ہوں۔

    اچھا تو باتیں کرو۔

    گومتی کے پانیوں پر اڑنے والے نیلے پرندے دیکھے ہیں تم نے۔۔۔ (جنرل قسم کے Topic پر گفتگو کی جائے گی۔)

    ہُم۔۔۔ زوکی جھیل میں دیکھے تھے۔۔۔ اور سارس۔۔۔ اس کے علاوہ بطخ بھی نہایت عمدہ اور مفید پرند ہوتا ہے۔

    کس قدر زبردست بور ہیں آپ۔

    لالہ!

    ارشاد! کبھی تم نے یہ بھی غور کیا (قطع نظر اورباتوں کے) کہ محبت کتنا شیریں، خوب صورت اور پیارا خیال ہے۔

    ربِّش۔ (بطخوں سے محبت پر آپ خوب پہنچ گیے۔)

    لالہ! ایسے خوب صورت وقت میں(جب کہ آئینہ آب پر، موجۂ شاداب پر، سایہ مہتاب پر، منظرِ شب تاب پر۔۔۔ ہے مری کشتی رواں اور میں ہوں نغمہ بار) اگر تم نے اپنی فلسفیانہ زندگی چھوڑ کر تھوڑی دیر رومان کی باتیں نہ کیں تو یقین جانو ان تمام چیزوں کے ساتھ (جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے) سخت زیادتی ہوگی (لہٰذا محبت کے متعلق اپنی رائے مفصل بیان کرو۔)

    رَوٹ۔

    ایں۔

    ہوّہ۔

    (جاپانی زبان میں بولتی ہو) تو یہ افواہ درست تھی کہ آپ انتہا سے زیادہ میٹر آف فیکٹ ہیں۔

    قطعی درست ہے۔ تم سے کس نے کہا تھا۔

    عارف کہہ رہا تھا بے چارہ، حالاں کہ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی پسند کی منگنی ہے۔

    پسند کی منگنی! اس سے زیادہ تو کاروباری اور کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی، جیسے دنیا کی اور بہت سی باتیں ایک خالص پروگرام کے ماتحت چل رہی ہیں: رات کا سونا، صبح کی چائے، دوپہر کو یونی ورسٹی کے لیکچر، شام کو کافی ہاؤس۔۔۔ اور اس وقت تمہارے ساتھ یہ کشتی رانی!

    ایں! لیکن اس رومان آفریں ۔۔۔

    اس سے آگے پہنچ کر سارا رومان کوچ کر جائے گا۔۔۔

    پر اگر تم میرا یقین کرو۔۔۔

    تم جیسوں پر یقین کرنا کس۔۔۔ گدھے نے بتایا ہے۔

    میرا خیال ہے۔۔۔ تمہیں اپنی زبان کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔

    بہرکیف آپ اطمینان رکھیے۔۔۔ میں دہلی کلاتھ ملز کے کپڑے کے کوپنوں اور پولسن مکھن کے ڈبّے کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچ سکتی۔ لیکن آپ اور عارف اور آپ کے سارے قبیلے والے گلنار شفق کی سرخی اور شبنم کے گیت پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

    اور اگراس وقت تمہیں بتاؤں کہ میں تم پر بالکل ۔۔۔ مرتا ہوں تو تم کیا کرو گی؟

    میں فوراً یہ کشتی الٹ دوں گی تاکہ ڈوب کر تم زیادہ آسانی سے مرسکو۔

    کشتی الٹ دو گی۔ خدا کی قسم۔۔۔ افوہ غالب نے یا شاید ذوق نے خوب کہا تھا؛

    احسان نا خداکا اٹھائے مری بلا

    کشتی خدا پہ چھوڑ دوں، لنگر کو توڑ دوں

    اس کے علاوہ جذبیؔ کہتا ہے۔

    جب کشتی ثابت و سالم تھی…

    ہائے اللہ ! کس قدر برجستہ اور با موقع شعر پڑھتے ہو، واقعی!

    تسلیمات۔ تسلیمات ۔ عرض کیا ہے کہ۔۔۔ گیتوں کا طوفان اٹھا ہے اپنی بینا تیز کرو۔۔۔ یعنی غور کرو کہ ان الفاظ میں طوفان۔۔۔ ریڈیو آرکیسٹرا اور شاعر کے جذبات کی باہم چپقلش کو کس خوبی سے پیش کیا گیا ہے۔۔۔ محبت کے فلسفے پر نوٹ لکھتے ہوئے اس دوسرے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ۔۔۔

    خدا کے لیے تم چپ بھی ہوگے یا نہیں۔ محبت۔ محبت۔۔۔!

    واللہ۔ خوب! محبت کا افسانہ اور ان لبوں سے۔۔۔ خوشاآں زبانے، زہے آں بیانے!

    خوشاآں۔۔۔ رازؔ بھی بھئی بڑے پایہ کا شاعر ہوگا ۔ علی گڑھ میں میرا کلاس فیلو تھا۔۔۔ اور سنو۔۔۔ کہتا ہے کہ ۔۔۔ ارے تم تو واقعی اس قدر گلنار ہورہی ہو جیسے۔۔۔

    اتنے بکواسی ہیں آپ خدا کی قسم۔۔۔ اب میں سچ مچ رونا شروع کردوں گی۔

    اچھا تو پھر آؤ کاروباری باتیں کریں۔ بھئی مارکیٹ میں پچھلے تین گھنٹے میں دکھنی کپاس اور خاندیش کی مونگ پھلی ساڑھے سینتالیس فی صدی کے بھاؤ سے گر گئی۔۔۔ اور گنیش فلور ملز کے پریفرنس شیئرز۔۔۔

    شپ۔شپ۔شپ۔چپ۔شپ

    ہائے اللہ اگر میں تمہیں قتل کر سکتی۔۔۔ تم اتنے برے کیوں ہو؟

    اور تم اتنی پیاری سی گڑیا کیوں ہو؟

    کاش تم میں عقل ہو۔

    کاش تم اتنی عالم فاضل نہ ہوتیں۔۔۔ (ورنہ میں تم سےضرور شادی کر لیتا)

    پارٹ ٹُو۔۔۔ کینٹین میں

    جیسو مرایا!

    ہا۔۔۔ جیسو مرایا!!

    سیلما۔۔۔ چاندنی رات کا گیت، موسمِ گل کے نغمہ زاروں کی شراب۔۔۔

    اندر آجاؤ۔۔۔ میری نیلی آنکھوں والی سینوریتا۔۔۔ اور آج کی رات کو محض آج کی رات سمجھو۔

    سیلما۔۔۔ تمہیں کون سی شراب پسند ہے۔ اسکوچ۔۔۔ شیری۔۔۔ ورموتھ۔۔۔ کوک ٹیل بناؤں؟

    دونت مائند اے لتل شری۔

    اور آپ۔۔۔ مس۔۔۔ ار۔۔۔ مس۔

    لالہ رخ ۔۔۔ دونت یولائک ٹو۔۔۔

    نیوتھینکس، کرنل ۔۔۔ آئی ڈونٹ ڈرنک۔۔۔ اوہ۔

    اوہ۔۔۔

    ۔۔۔فرالین سیلما مارینا پیٹرز برگ۔۔۔

    مس لالہ رخ۔۔۔

    ڈیلائیڈ ٹو میٹ یو!

    یقین جانو ہم بہترین دوست ثابت ہوں گے۔

    سیلما مارینا۔۔۔ کیسا رومانتیک اور جپسیوں جیسا نام ہے۔ (میری ٹوٹی پھوٹی فرینچ کا سارا زور لگا دینے پر بھی تم محض مسکرا رہی ہو۔ یہ بات ٹھیک نہیں)۔

    تمہارے کیو ٹیکس کا شیڈ بہت پیارا ہے۔

    ناچ کے تہوار کے بعد بھی ہم ملا کریں گے نا۔ تم لکھنؤ ہی میں رہتی ہونا؟ لاپلاز میں۔۔۔ مجھے تم بہت اچھی لڑکی معلوم ہورہی ہو۔ حالاں کہ عموماً غیر ملکی مجھے ذرا نہیں بھاتے (کیوں کہ ہم لوگ سخت قوم پرست ہیں)۔ میرا بھائی بھی تمہیں بہت پسند کرتا ہے۔

    تمہارا بھائی؟

    ہاں، بہترین لیڈی کِلّر ہے۔ اس کینٹین کا ٹھیکہ اسی کے پاس ہے۔

    میں اس سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔

    سیلما۔۔۔ آج کی رات۔۔۔ آج کی رات۔۔۔ کتنی بے وقوفی کی باتیں ہیں یہ ساری کی ساری۔۔۔ جب کہ ۔۔۔ جب کہ خاموش ہوا پام کے پتّوں میں سے گذر رہی ہے اور باہر سبز آسمان پر روپہلے ستارے جھلملاتے ہیں۔ اور کل جب میں یہاں سے سیکڑوںمیل دور جا چکا ہوں گا یہ پتّے اور یہ ہوائیں یوں ہی گاتی رہیں گی۔

    سیلما!

    ہوں۔۔۔

    کیا سوچ رہی ہو؟

    وہ کون ہے؟

    میرا منگیتر۔۔۔ آفیشیل فیانسے۔۔۔

    یَپ۔۔۔

    اور وہ دوسرا؟

    وہ کمال ہے۔۔۔ انتہائی باتونی آدمی۔۔۔ اور یہ میں ہوں ۔۔۔ لالہ رُخ اور تم ۔۔۔! محض ہنگرین سی بال روم ڈانسر۔۔۔ اور۔۔۔ یہ اپریل کی رات ہے۔۔۔ اور ہم کینٹین کے باہر پائن کے سائے میں سبز بید کی کرسیوں پر بیٹھے بے معنیٰ باتیں کر کے بے حد خوش ہورہے ہیں۔ اور پہلی مئی کے جشنِ بہاراں کی شام کو تم نیلے ڈینیوب کے سبزہ زاروں کا ناچ دکھلاؤگی جس کے لیے تم کو ساڑھے تین سو روپے جنگی فنڈ میں سے دیئے جائیں گے۔۔۔۔

    سیلما۔۔۔

    ہاں!

    کیا خیال ہے تمہارا؟

    بہت خوب۔

    تمہیں میرا منگیتر پسند آیا؟

    نہیں۔

    اور کمال؟

    نہیں۔

    میرا بھائی؟

    وہ بھی نہیں۔

    اوہ۔ پھر تمہارے لیے کیا کیا جائے؟

    کچھ نہیں۔ شکریہ !

    تمہیں ہندوستان کے لڑکے اچھے نہیں لگتے؟

    بہت اچھے لگتے ہیں۔

    کیوں کہ بہت ویل ڈریسڈ ہوتے ہیں۔ بڑی عمدہ انگریزی بولتے ہیں۔ بے حد اسٹائل سے پیار کرتے ہیں۔ انتہائی احمق ہوتے ہیں لیکن انتہائی عقل مند نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تمہارے ملک کے لڑکے ایسے نہیں ہوتے۔

    نہیں۔

    فرالین سیلما!

    ہاں۔

    تمہاری ماں کون تھی؟

    اس سلسلہ میں میری ماں کا ذکر بھی ضروری ہے۔

    نہیں، یونہی پوچھ رہی ہوں،ا زراہ ہمدردی۔

    اچھا، شکریہ۔۔۔ بوڈالپسٹ میں ٹوپیاں بیچتی تھیں۔۔۔ مرگئی۔۔۔

    اوہ، چچ چچ چچ۔۔۔ اور باپ؟

    اس سے بھی ہمدردی ہے؟ وہ برلن کے ایک لوہے کے کارخانے میں فورمین تھا۔

    نازیوں نے مار ڈالا ؟

    نہیں۔۔۔ خود ہی مرگیا۔۔۔ خودکشی کر کے۔

    اوہ۔ ہاؤ بیورلی سیڈ۔۔۔ برلن واپس جانا چاہتی ہو؟

    نہیں۔

    کیوں؟

    وہاں کے نائٹ کلب اجڑ چکے ہیں اور یہاں روز ایک نائٹ کلب قائم ہورہا ہے۔

    تو تمہیں ہمارا ملک پسند ہے گویا!

    بہت۔

    سیلما۔۔۔

    تم نے پولٹ گوڈرڈ اور این شیرؔ یڈن کو دیکھا ہے؟

    نہیں۔۔۔ تم نے دیکھا ہے؟

    ہاں۔۔۔ دہلی کے روشن آرا کلب میں۔ دونوں ہالی ووڈ سے یہاں ہندستانی فوجوں کو محظوظ کرنے کے لیے آئی تھیں۔ (جی چاہتا ہے بیورلی نلکس کو پکڑ کر کھا جاؤں۔)

    بیورلی نلکس کو نہیں جانتیں۔

    اس نے ہمارے متعلق ایک سخت بے ہودہ کتاب لکھی ہے۔

    اچھا۔۔۔ میں کتابیں نہیں پڑھا کرتی۔

    ارے۔۔۔ پھر کیا کرتی ہو؟

    کچھ نہیں۔

    اوہ!

    ہلو چلو۔۔۔ پچ پچ پچ

    سیلما یہ کس کا اتنا سویٹ بچہ ہے۔

    میرا۔

    تم۔۔۔ ہا۔۔۔ را؟

    ہاں۔ کوئی اعتراض؟

    یقینا نہیں۔

    (تم ایک زبردست سماجی انقلاب کی قائل ہو۔)

    بھئی اللہ۔۔۔ واقعی۔۔۔ افوہ۔۔۔ کیا ہورہا ہے؟

    فلسفۂ حیات کی تفسیر۔

    اہم۔۔۔ کب سے؟

    یہ میں ایک جدید طرز کی نظم لکھ رہی ہوں (ایک سفید فام بال روم ڈانسر سے متاثر ہوکے)۔

    فرمائیے۔

    یہ۔۔۔ آسیلما مارینا۔۔۔ آج کی رات (جسے محض آج کی رات سمجھ

    اے اجنبی عورت۔

    ٹھیرو۔ اس رفتار سے بہت دیر لگے گی۔ لکھو: یہ دنیا ایک کینٹین ہے۔

    یا میونسپلٹی کا دفتر۔

    اور زندگی

    ایک آرمی کنٹریکٹر کے بھاری ٹرک کا گھومتا ہوا پہیّہ گوالیار پوٹری کا

    خوب صورت شکردان جس کا

    چینی کا روغن بہت جلد اتر جاتا ہے۔

    چنانچہ میں چپ کھڑا ہوں زندگی کے موڑ پر

    اور آمری جان مرے پاس دریچے کے قریب

    یہ ڈرائنگ روم ہے۔

    اور یہ پائپ ہے مرا

    اے اجنبی عورت

    ۔۔۔ٹھیرو۔ یہ تو تم چرا رہے ہو صفا۔

    چپ چاپ سنتی رہو۔ آگے لکھو۔

    ساقی کی اک نگاہ پہ لہرا کے پی گیا۔

    رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا۔

    ارے میاں گھبرا کے پی گیا۔ اجی ٹھکرا کے پی گیا

    یہ راشدؔ کی مشہور غزل ہے۔

    یہ راشدؔ کی نہیں جگرؔ کی مشہور غزل ہے۔

    اچھا آپ میری جان پر کرم کیجئے۔

    لیکن مجھے آپ سے کچھ عرض کرنا ہے۔

    ارشاد!

    کیا آپ واقعی عارف سے، اس نا معقول سے، جس کے آگے سارے کافی ہاؤس ڈینڈی پانی بھرتے ہیں، (اور جو بے انتہا سٹائل سے ہکلا کر پائپ پیتے ہوئے خالص ولایتی انگریزی بولتا ہے) شادی کر رہی ہیں؟

    جی (اور کل تک آپ اس کی ترجمانی اور نمائندگی فرما رہے تھے)۔

    لیکن۔۔۔

    اچھا کمال صاحب ایک کام کیجئے۔ یہاں سے تشریف لے جایئے فی الحال۔۔۔

    اوہ لال لا۔یہ کتنے خوش رنگ پیارے سے پھول ہیں۔ کہاں سے خریدے؟

    شکریہ۔ ہمارے ہاں پھول خریدے نہیں جاتے۔ میرے منگیتر نے اپنے باغ سے صبح بھیجے تھے۔ (ہماری دکانوں میں صرف مصنوعی پھول بکتے ہیں)۔

    اوہ۔۔۔تمہارا منگیتر۔۔۔ آفیشیل فیانسے آئی مین۔

    ہاں۔۔۔ اس سے ملو۔ دفتر سے آکر صوفے پر بے حد اکتایا ہوا سا بیٹھا ہے۔ جوائنٹ مجسٹریٹ ہے یا اسی قسم کا کوئی بڑا سا کام کرتا ہے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھ پر ایسا رعب ڈالنا چاہتا ہے جیسے مجھ سے شادی کر کے مجھ پر بڑا عظیم الشان احسان کرنے والا ہے۔ سلی گوس۔

    ہماری منگنی کی اطلاع گذشتہ مہینے آفیشیل طور پر اخباروں میں چھپ چکی ہے لیکن ہم نے اب تک بہت کم باتیں کی ہیں۔ (موسم اور سنیما کے متعلق۔) ہم دونوں اپنی اپنی جگہ پر بہترین قسم کے منگیتر ثابت ہوئے ہیں۔ کریکٹ اور مثالی ۔ وہ ستر میل کی رفتار سے کبھی ڈرائیو نہیں کرتا۔ پن اپ گرلز کی تصویروں سے کوئی دل چسپی نہیں۔ پکچرز کو موویز یا فلیکس کہتے اسے نہیں سنا گیا۔ چار آنہ پوائنٹ سے بھی برج نہیں کھیلتا۔ صبح بہت جلد اٹھ جاتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں کے حلقے ہرگز نہیں بناتا۔ (اور کمال صاحب جوکچھ اس کے متعلق بیان کرتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔) یَس اور نوکویپ اور نوپ نہیں کہتا۔ ہم دونوں کا جب کسی دوسری جگہ پر ملنا ہو جاتا ہے تو دونوں فوراً از راہ اخلاق تھوڑا سا شرما کر دوسروں سے مختلف بیحد ضروری باتوں میں مصروف ہوجاتے ہیں(اسی لئے میں تم سے یہ باتیں کر رہی ہوں)

    مجھے انتہائی مسرت ہوئی تمہارے منگیتر سے مل کر۔

    اور یہ کمال صاحب ہیں۔ آپ چار پانچ لڑکیوں سے بہ یک وقت عشق فرماتے ہیں اور ہر تیسرے منٹ پر شعر پڑھتے ہیں۔

    شعر!

    ہاں! ہمارے ہاں کے ڈون جَون شاعروں اور کتابوں کے حوالے بہت دیتے ہیں اور اپنا مطلب بعد میں بیان کرتے ہیں۔

    اس کم عمری میں خاصا وسیع تجربہ رکھتی ہو۔ یہ بھی تمہارے ملک کی خاصیت ہے۔

    دراصل ہمارے خطۂ زمین کی گرم ٹراپیکل آب و ہوا کی وجہ سے ۔۔۔

    قطعی۔۔۔

    تم لپ سٹک کیوں استعمال کرتی ہو؟

    تم بھی تو۔۔۔

    لیکن میں محض ایک بال روم ڈانسر ہوں۔ ہمارے ہاں کوئی اعلیٰ خاندان لڑکی میک اپ کا استعمال نہیں کرتی۔

    تم نے زندگی کو جمالیاتی احساسات سے علاحدہ کردیا ہے اور ہم جذبات واحساسات پر مرتے ہیں۔ آرٹ اورخوب صورتی کے پرستار ہیں۔ (تم نے لکھنؤ آرٹ اسکول کی نمائش دیکھی ہوگی۔)

    یقینا۔ یہی وجہ ہے کہ تمہارے کافی ہاؤس آرٹ اور خوب صورتی کے پرستاروں سے پُر ہوتے ہیں۔

    اوہ سیلما، نہ جانے تمہارے کیسے خیالات ہیں۔ تمہارے علاوہ کوئی اور غیر ملکی، خصوصاً یہ امریکن، جب ہم سے ملتے ہیں ایک ایک چیز کی تعریف میں بس مرے جاتے ہیں ہماری رنگ برنگی ساڑیاں ، ہمارے سیاہ لمبے لمبے بالوں میں سجے ہوئے کنول اور یاسمین کے پھول ، ہمارے منی پوری رقص۔ وہ کہتے ہیں کہ چغتائی کے نقوش اور ابھاروں میں جان پڑ گئی ہے۔ (اس اتوار کو ایسٹ اینڈ ویسٹ فریٹرینٹی کی میٹنگ میں چلنا۔ تمہارے خیالات ٹھیک ہوجائیں گے۔)

    اور یہ میرا بھائی ہے۔ فوج میں تھا لیکن جب ہمارے یہاں ٹھیکوں کا کام حد سے زیادہ بڑھ گیا تو وہ کسی ترکیب سے ملازمت چھوڑ کر گھر آگیا۔ بڑی بڑی تجارتی اور قومی فائدے کی اسکیمیں ہیں اس کے دماغ میں۔ علی گڑھ میں میڈیکل کالج قائم ہوجانے پر وہاں ایک کافی ہاؤس کھولے گا (تاکہ ملّت کے فرزندوں کو اسٹیشن جانے سے نجات ملے) اور پھر اعلیٰ کاروباری تجربہ حاصل کرنے کے واسطے امریکہ جائے گا۔

    پارٹ تھری۔۔۔ فائنل

    اپنے نیلے پردوں والے دریچے میں سے صرف ایک بار اور جھانک لو۔۔۔ آخری بار۔۔۔ پھر جب تمہیں نیند آجائے گی اس وقت ساحل بہت پیچھے رہ چکا ہوگا۔ اس گیت کی لہریں تمہیں فراموش کردیں گی جن کے سہارے بہار کا چاند آسمان کا چکّر لگاتا ہے۔ آہستہ آہستہ قدم رکھو۔ سمندر کی موجیں ریت پر اپنے نشان چھوڑتی ہوئی گزر رہی ہیں۔۔۔ بہت دور تمہاری خوابوں کی کشتی سمندر کی ایک اجنبی کرخت چٹان سے ٹکرا کر ڈوب چکی ہے۔ اس کے ٹوٹنے کی آواز، لہروں کا غمگین نغمہ ، اب بھی تمہیں سنائی دے رہا ہے۔ دھویں کے ان نیلے بادلوں کے پرے سے کوئی تمہیں پکار رہا ہے۔ آخری بار انہیں جواب دے دو۔ پھر وہ آوازیں واپس چلی جائیں گی۔ اپنا دریچہ بند کرنے سے پہلے سوچو، وہ لمحے ، وہ گیت جو تم انہیں نہ دے سکیں۔ وہ بہت آگے نکل چکیں۔ ان کا پیچھا کرنے کی تم میں ہمت نہیں۔ اس شکست کا خیال کرو جو ایک شاہین کو ایک اونچی چٹان پر سے گرتے ہوئے محسوس ہوسکتی ہے۔

    وہ راہیں کہاں کھو گئیں جن کے سبز کناروں پر مسرتوں کے جوان اور خوب صورت چرواہے اپنی رنگین بانسریاں بجایا کرتے تھے اور جہاں پہاڑیوں کے پرے سے رو پہلی تلواروں کی جھنکاریں سنائی دیتی تھیں۔ اپنی آنکھیں بند کرلو۔ اپنی پگڈنڈیوں پر سے اترتے ہوئے ہم نے چٹانوں کے اونچے ایوان سجائے تھے۔ ہم ان چٹانوں پر کھڑے تھے لیکن ہمارے پرچم مخالف طوفانی ہواؤں کا مقابلہ نہ کرسکے اور آج جب کہ تم زرد بالوں اور نیلی آنکھوں والے سیگفریڈ سے بہت دور ہو جو تمہارے دریچے کے نیچے آتا ہے وہ سیگفریڈ ہوتا ہے۔ سیلما، سیلما۔۔۔

    ۔۔۔ فوّہ۔۔۔ ہل۔۔۔ وہ سستی سی دوغلی چھو کری جو ہماری کینٹین کے ہندوستانی کنٹریکٹر کو پرنس کے اسٹال پر چو کو بارز بیچتی ہوئی مل گئی تھی۔

    ہنری ! مجھے پچاس روپے چاہئیں۔

    ہم ۔۔۔ نہیں دے سکتا۔

    ایک ہفتے سے مانگ رہی ہوں ۔

    میرے پاس نہیں ہیں۔ اپنے کالے ہندوستانی دوستوں سے لو۔

    تم بے حد سور ہو۔

    اور تم شیطان کی سگی بیٹی۔۔۔ فائی فائی۔۔۔ فو۔۔۔ (جنگ ختم ہوگئی۔ ہم فاتح ہیں۔)

    فائی۔۔۔ فو۔۔۔ جنگ ختم ہوگئی ۔۔۔ خدایا تیرا شکر۔ آج شام کو ہم چراغاں دیکھنے حضرت گنج چلیں گے۔ اور پھر امبیسڈر۔

    اوفوہ۔۔۔ کتنے خوش ہیں ہم آج۔ اور سیلما تم چرچ کے لیے اب تک تیار نہیں ہوئیں۔ چھاؤنی کی طویل اور چمکیلی سڑکوں پر پولس کی گارو خاموشی سے ٹہل رہی ہے کیوں کہ گورنر شکرانے کی سروس کے لیے سینٹ پال جانے والا ہے اور مہاراجہ جہانگیر آباد کی لمبی سیاہ کارکسی انتظام کے سلسلے میں ان سڑکوں پر سے بار بار تیزی سے گزر رہی ہے اور ان کی کوٹھی کے پھاٹک میں سے نکل کر کلکتہ لا مارٹیز کے سیاہ پوش لڑکے قطار در قطارسیٹیاں بجاتے چرچ جارہے ہیں۔ لفٹ رائٹ۔ لفٹ۔۔۔ رائٹ۔۔۔ او خدا۔ ہماری آزمائش کا صبر آزما زمانۂ نصرت کے ترانے گاتا ہوا آج آخر ختم ہوگیا۔ ظلم اور تشدد کی اندھیری طاقتوں کے طوفان کے مقابلے میں ہم اور ہمارے ساتھیوں نے کتنی عظیم الشان قربانیاں پیش کیں، مصائب کا کیسی بہادری اور مسکراہٹ کے ساتھ سامنا کیا۔۔۔ اور کیا مضائقہ تھا جو ہندوستان کے ایک پست سے طبقے کے چند لاکھ نفوس (جو صدیوں سے چاول کھا کھا کر زمین پر رینگتے آتے تھے اور جنہیں ٹنڈ فروٹ کھانے کی تمیز نہیں تھی)سڑکوں پر لیٹ لیٹ کر مر گیے،یا جنہوں نے دہلی کلاتھ ملز کے دروازوں پر بلوے کرکے غیر ملکیوں کو کتابیں لکھنے اور کمیونسٹوں کے گوناگوں تفکرات میں اضافہ کرنے کا موقع بہم پہنچایا۔

    یہ ہماری طرف سے آزادی اور جمہوریت کی قربان گاہ پر ایک معمولی سی پیش کش تھی جسے اکابرِ ثلاثہ نے زراہِ لطف و کرم قبول فرمایا۔ ہم اپنی کوششوں میں اپنے ساتھی ملکوں سے پیچھے نہیں رہے۔ (دیکھو ریڈیو اسٹیشن ، کونسل چیمبر، گنج کی اونچی اونچی عمارتوں اور ہماری موٹروں پر ہماری اتحادی قوموں کے پرچم کس خوب صورتی سے لہرا رہے ہیں۔) یونین جیک اپنی کار پرلگانے کے لیے تم بھی خرید لو۔ صرف ساڑھے چار آنے کا ہے ۔) ہنہ ۔۔۔ تم۔۔۔ تم جو ہمیں چین اور روس کی عورتوں کے کارنامے سناتے ہو۔

    چین اور روس۔۔۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہفتوں۔۔۔ دن۔۔۔ دن اور رات ۔۔۔ رات رات بھر ریڈکراس پارٹیوں کے ساتھ بعض مرتبہ صرف ٹن کے پھلوں اور کریم کریکرز پر گزارہ کر کے ہم نے محاذپر بھیجنے کے لیے اونی چیزیں، مٹھائیاں اور تحفوں کی پارسلیں تیار کیں ۔ اے۔ آر۔ پی۔ کی ریہرسلوں کے بعد گورنمنٹ ہاؤس کی پارٹیوں کا انتظام کیا۔ ہفت