Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وقار محل کا سایہ

ممتاز مفتی

وقار محل کا سایہ

ممتاز مفتی

MORE BYممتاز مفتی

    کہانی کی کہانی

    وقار محل کے معرفت ایک گھر اور اس میں رہنے والے لوگوں کے ٹوٹتے بنتے رشتوں کی داستان کو بیان کیا گیا ہے۔ وقار محل کالونی کے وسط میں واقع ہے۔ ہر کالونی والا اس سے نفرت بھی کرتا ہے اور ایک طرح سے اس پر فخر بھی۔ مگر وقار محل کو پچھلے کئی سالوں سے گرایا جا رہا ہے اور وہ اب بھی ویسے کا ویسا کھڑا ہے۔ مزدور دن رات کام میں لگے ٹھک ٹھک کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ٹھک ٹھک کی اس آواز سے ماڈرن خیال کی ماڈرن لڑکی زفی کے بدن میں سہرن سی ہونے لگتی ہے۔ اور یہی سہرن اسے کئی لوگوں کے پاس لے جاتی ہے اور ان سے دور بھی کرتی ہے۔

    وقار محل کی چھتیں گر چکی ہیں لیکن دیواریں جوں کی توں کھڑی ہیں۔ جنہیں توڑنے کے لیے بیسیوں جوان مزدور کئی ایک سال سے کدال چلانے میں مصروف ہیں۔ وقار محل نیو کالونی کے مرکز میں واقع ہے۔ نیو کالونی کے کسی حصے سے دیکھئے، کھڑکی سے سر نکالیے، روشن دان سے جھانکئے، ٹیرس سے نظر دوڑائیے، ہر صورت میں وقار محل سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ مضبوط، ویران، بوجھل، رعب دار، ڈراؤنا، سر بلند، کھوکھلا، عظیم۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری نیو کالونی آسیب زدہ ہو اور وقار محل آسیب ہو۔

    نوجوان دیکھتے ہیں تو دلوں میں غصہ ابھرتا ہے۔ نیو کالونی کے چہرے کا پھوڑا۔ رستی بستی کالونی میں آثار قدیمہ۔ چہرے نفرت سے بگڑ جاتے ہیں، ہٹاؤ اسے۔ لیکن وہ محل سے اپنی نگاہیں ہٹا نہیں سکتے۔ بچے دیکھتے ہیں تو حیرت سے پوچھتے ہیں، ’’ڈیڈی! یہ کیسی بلڈنگ ہے؟ بھدی، بے ڈھب، موٹی موٹی دیواریں، اونچی اونچی چھتیں، تنگ تنگ کھڑکیاں اور ڈیڈی کیا لوہے کی بنی ہوئی ہے۔ اتنے سارے مزدوروں سے بھی نہیں ٹوٹ رہی۔‘‘ بڑے بوڑھے محل کی طرف دیکھتے ہیں تو۔۔۔ لیکن بڑے بوڑھے تو اس طرف دیکھتے ہی نہیں۔ انہیں دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ تو رہتے ہی محل میں ہیں چوری چھپے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کسی پر بھید کھل نہ جائے۔

    کالج کے لڑکے جو اس کھوکھلے محل کے زیر سایہ پل کر جوان ہوئے ہیں، وقار محل کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اب تو خالی دیواریں رہ گئی ہیں۔ کچھ دنوں کی بات اور ہے۔ لیکن ان کے دلوں سے آواز ابھرتی ہے اور وہ تالیاں پیٹنے لگتے ہیں۔ قہقہے لگانے لگتے ہیں تاکہ وہ آواز ان میں دب کر رہ جائے۔ بہرحال نیو کالونی کا ہر نوجوان وقار محل سے ایک پراسرار لگاؤ محسوس کرتا ہے۔ اگرچہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ لگاؤ نہیں لاگ ہے۔ لیکن اسے پتہ نہیں ہے کہ لاگ کا ایک روپ ہے۔ ڈھکا چھپا، شدت سے بھرا لگاؤ۔

    وقار محل صدیوں سے وہاں کھڑا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب تعمیر ہوا تھا۔ جب سے لوگوں نے ہوش سنبھالا تھا، اسے وہیں کھڑے دیکھا تھا۔ پہلے تو لوگ وقار محل پر فخر کیا کرتے تھے، پھر نئی پود نے مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ پھر کسی منچلے نے بات اڑا دی کہ محل کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ چھتیں بیٹھ رہی ہیں۔ وہ نیو کالونی کے لیے خطرہ ہے۔ اس پر کمیٹی والے آ گیے۔ انہوں نے چاروں طرف سے محل کی ناکہ بندی کر دی اور جگہ جگہ بورڈ لگا دیے۔ ’’خبردار۔۔۔ دور رہئے۔ عمارت گرنے کا خطرہ ہے۔‘‘ پھر بیسیوں مزدور کدال پکڑے آپہنچے اور محل کی چھتوں اور دیواروں کو توڑ توڑ کر گرانے لگے۔ پتہ نہیں بات کیا ہے کہ سالہا سال سے اتنے سارے مزدور لوگ کدال چلا رہے ہیں۔ اسے توڑنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی محل کا کچھ نہیں بگڑا۔ وہ جوں کا توں کھڑا ہے۔ پتہ نہیں کس مصالحے سے بنا ہوا ہے کہ اسے منہدم کرنا آسان نہیں۔

    بہر حال! سارا دن مزدور کدال چلاتے رہتے ہیں۔ نیو کالونی میں آوازیں گونجتی رہتی ہیں۔ ٹھکا ٹھک، ٹھک، ٹھکا ٹھک ٹھک۔ یہ ٹھک ٹھک جفی کی رانوں میں گونجتی ہے۔ اس کی لرزش سے کوئی پوشیدہ سپرنگ کھلتا ہے۔ کوئی پراسرار گھڑی چلنے لگتی ہے۔ اس کی ٹک ٹک دل میں پہنچتی ہے۔ دل میں لگا ہوا ایمپلی فائر اسے سارے جسم میں اچھال دیتا ہے۔ ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ چھاتیوں سے کچا دودھ رسنے لگتا ہے۔ ہونٹ لمس کی آرزو سے بوجھل ہو کر لٹک جاتے ہیں، نسیں تن جاتی ہیں اور سارا جسم یوں بجنے لگتا ہے جیسے سارنگی ہو۔ اس پر جفی دیوانہ وار کھڑکی کی طرف بھاگتی ہے اور وقار محل کی طرف یوں دیکھنے لگتی ہے جیسے اس سے پوچھ رہی ہو، اب میں کیا کروں؟

    والدین نے جفی کا نام یاسمین رکھا تھا۔ بچپن میں سب اسے یاسمین کہتے تھے۔ پھر جب وہ ہائی سکول میں پہنچی تو اس نے محسوس کیا کہ یاسمین دقیانوسی نام ہے۔ اس سے پرانے نام کی بو آتی ہے۔ یہ نام ہے بھی تو سلو ٹمپو۔ ڈھیلا ڈھیلا جیسے چولیں ڈھیلی ہوں۔ لہٰذا اس نے یاسمین کی چولیں ٹھونک کر اسے جس من کر دیا۔ پھر جب وہ کالج میں پہنچی تو اسے پھر سے اپنے نام پر غصہ آنے لگا۔ لو میں کیا پھول ہوں کہ جس من کہلاؤں۔ میں کیا آرائش کی چیز ہوں۔ میں تو ایک ماڈرن گرل ہوں اور ماڈرن گرل پھول نہیں ہوتی، آرائش نہیں ہوتی، خوشبو نہیں ہوتی۔ یہ سب تو دقیانوسی چیزیں ہیں۔ ماڈرن گرل تو ایکٹو ہوتی ہے، سمارٹ ہوتی ہے۔ جیتی جاگتی، چلتی پھرتی۔ جس پر زندگی بیتتی نہیں بلکہ جو خود زندگی بیتتی ہے۔ لہٰذا اس نے اپنا نام جس من سے جفی کر لیا۔ جفی، فٹ، فٹافٹ فوراً۔ یہ نام کتنا فعال تھا۔ کتنا سمارٹ۔ اس میں زندگی کی تڑپ تھی، پھر اس نام کے زیر اثر جلد ہی اس میں یہ خواہش ابھری کہ کچھ ہو جائے۔ ابھی ہو جائے۔ ابھی ہو جائے فوراً تو ابتدا تھی۔ بالآخر جفی چاہنے لگی کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جو ہونے سے رہ جائے۔

    لیکن اس روز جب کہ کچھ بلکہ بہت کچھ ہو گیا تھا، یہاں تک ہو گیا تھا جس کی اسے توقع نہ تھی، لیکن وہ خوشی محسوس نہیں کر رہی تھی۔ الٹا وہ تو ہاتھ مل رہی تھی کہ کیا ہو گیا۔ پتہ نہیں اس روز جفی کو کیا ہو گیا تھا۔ اس کی آنکھیں پرنم تھیں۔ وہ حسرت آلودنگاہوں سے وقار محل کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ دوڑ کر وقار محل میں جا پناہ لے۔ اس روز جیسے جفی پھر سے یاسمین بن گئی تھی۔

    اگرچہ شعوری طور پر جفی کو وقار محل سے سخت چڑ تھی اور وہ اسے اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتی تھی لیکن دل کی گہرائیوں میں وقار محل اس کے بنیادی جذبات پر مسلط تھا۔ ان جانے میں وہ اس کی زندگی پر یوں سایہ کیے ہوئے تھا جیسے بڑ کا بوڑھا درخت کسی گلاب کی جھاڑی پر سایہ کیے ہوئے ہو۔

    جفی وقار محل کے زیر سایہ پیدا ہوئی تھی۔ وہیں کھیل کھیل کر جوان ہوئی تھی۔ اس کی کوٹھی ایور گرین وقار محل کے عقب میں تھی۔ اس کی تمام کھڑکیاں محل کی طرف کھلتی تھیں۔ دونوں ٹیر سیں ادھر کو نکلی ہوئی تھیں۔ بچپن میں جب وہ یاسمین تھی تو وقار محل اس کے لیے جاذب نظر اور قابل فخر چیز تھی۔ پھر جوں جوں وہ جوان ہوتی گئی، وقار محل اسے بوسیدہ عمارت نظر آنے لگی جو نیو کالونی کے راستے کی رکاوٹ تھی۔ اس کے دل میں یہ گمان بڑھتا گیا کہ وقار محل نوجوانوں کی آزادی کچلنے کے لیے تعمیر ہوا تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ گرتے ہوئے وقار محل کا سایہ اس کے دل کی گہرائیوں پر چھایا ہوا ہے اور اس کی زندگی کے ہر اہم واقعے میں وقار محل کا حصہ تھا۔ مثلاً جب اس میں جوانی کی اولیں بیداری جاگی تھی تو گرتے ہوئے وقار محل کی ٹھک ٹھک نے ہی تو اسے جھنجھوڑ کر جگایا تھا۔ اسے وہ دن اچھی طرح یاد تھا۔

    یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ ابھی جس من تھی، جفی نہیں بنی تھی۔ اگرچہ اس کی باجی عفت مدت سے عفت سے اف اور پھر اف سے افعی بن چکی تھی، چونکہ اف بٹ کا امکان خارج ہو چکا تھا۔ ان دنوں باجی سارا سارا دن اپنے بیڈ پر اوندھے منہ پڑی رہتی تھی۔ پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا تھا۔ افعی باجی تو بیڈ پر ڈھیر ہونے والی نہ تھی۔ اس کی تو بوٹی بوٹی تھرکتی تھی۔ ابھی یہاں کھڑی ہے، ابھی باغیچے میں جا پہنچی۔ لو وہ ٹیرس پر ٹہل رہی ہ