Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چاک پر اشعار

کبھی ہم چاک تک نہیں پہنچے

اور کبھی کوزہ گر سے ٹوٹ گئے

ازبر سفیر

مجھے تو اتنی خبر ہے کہ مشت خاک تھا میں

جو چاک مہلت گریہ پہ رقص کرتا رہا

نثار ناسک

سر بکف گھر سے نکلنا تو ہے شرط اول

اتنا آسان نہیں چاک گریباں ہونا

راہی معصوم رضا

یہ کوزہ گر یہ چاک یہ مٹی یہ آگ سب

زعم ہنر میں دیکھ کہیں کے نہیں رہے

ذکیہ غزل

ایک بے چہرہ بدن کو نام دینے کے لیے

چاک سرگرم عمل ہے کوزہ گر خاموش ہے

ذکیہ غزل
بولیے