Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دار پر اشعار

نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکے

فراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا

کیفی اعظمی

میرے ہی خون میں نہلا کے شررؔ

وہ صلیبوں پہ سجا دے گا مجھے

شرر فتح پوری

ہر روز اک آوازہ انا الحق کا لگائیں

دیکھیں تو کہ ہے سلسلۂ دار کہاں تک

تابش دہلوی

اب تو ضرورت کی اک پگڑی ہے یاروں کے کندھوں پر

ہم لوگوں کے ساتھ یہاں سے رسم صلیب و دار اٹھی

راہی معصوم رضا

نہ جب اہل خرد نے بات مانی

تو پھر شرط صلیب و دار ٹھہری

راہی معصوم رضا

سولیاں نصب رہیں قحط جنوں ہے بھی تو کیا

کچھ نہ کچھ اب بھی نکل آئیں گے گردن والے

راہی معصوم رضا
بولیے