تخلیقی زبان کے عناصر: تشبیہ، استعارہ اور پیکر کی تفہیم
شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی شعور کی روشنی میں تخلیقی زبان کے بنیادی عناصر،تشبیہ، استعارہ اور پیکر، کا تجزیہ اور ان کی تفہیم۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی شعور کی روشنی میں تخلیقی زبان کے بنیادی عناصر،تشبیہ، استعارہ اور پیکر، کا تجزیہ اور ان کی تفہیم۔
یہ مضمون فیض کی شاعری میں رات، چاندنی، اور تنہائی کی منظر کشی کا تجزیہ کرتا ہے، جو ان کے کلام میں ایک مخصوص اور شدید جمالیاتی فضا تخلیق کرتی ہے۔