وحدت الوجود اور ویدانت: اردو غزل میں کثرت میں وحدت کا نظریہ
اردو غزل میں تصوف کے نظریۂ 'وحدت الوجود' اور ہندوستانی فلسفے 'ویدانت' کی گہری مشابہت نے کائنات کو ایک ہی ذات کا مظہر قرار دینے کی عظیم روایت کو جنم دیا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
اردوشاعری کے اہم تریں موضوعات میں سے رہے ہیں ۔ عشق میں فنائیت کا تصوردراصل عشق حقیقی کا پیدا کردہ ہے ۔ ساتھ ہی زندگی کی عدم ثباتی ، انسانوں کے ساتھ رواداری اورمذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں ایک بہت لچکداررویے نے شاعری کی اس جہت کو بہت ثروت مند بنایا ہے ۔ دیکھنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ تصوف کے مضامین کو شعرا نے کس فنی ہنرمندی اورتخلیقی احساس کے ساتھ خالص شعر کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ جدید دورکی اس تاریکی میں اس انتخاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔
اردو غزل میں تصوف کے نظریۂ 'وحدت الوجود' اور ہندوستانی فلسفے 'ویدانت' کی گہری مشابہت نے کائنات کو ایک ہی ذات کا مظہر قرار دینے کی عظیم روایت کو جنم دیا۔