عبث ہے راز کو پانے کی جستجو کیا ہے (ردیف .. ')

عبد الاحد ساز

عبث ہے راز کو پانے کی جستجو کیا ہے (ردیف .. ')

عبد الاحد ساز

MORE BYعبد الاحد ساز

    عبث ہے راز کو پانے کی جستجو کیا ہے

    یہ چاک دل ہے اسے حاجت رفو کیا ہے

    یہ آئنے ہیں کہ ہم چہرہ لشکروں کی صفیں

    یہ عکس عکس کوئی صورت عدو کیا ہے

    مشابہت کے یہ دھوکے مماثلت کے فریب

    مرا تضاد لیے مجھ سا ہو بہ ہو کیا ہے

    میں ایک حلقۂ بے سمت اپنے مرکز پر

    یہ شش جہات ہیں کیسے یہ چار سو کیا ہے

    یہ لحم و خوں کے کنائے یہ ذہن کے اسلوب

    مرے وجود کا پیرایۂ نمو کیا ہے

    یہ آسماں سے رگ جاں تک ایک سرگوشی

    سکوت شب کا یہ انداز گفتگو کیا ہے

    یہ رہ گزار نفس تنگنائے مایوسی

    مگر یہ وسعت دامان آرزو کیا ہے

    حصار جسم و طلسم قبا عزیز مگر

    نکل بھی آؤ مری جاں کبھو کبھو کیا ہے

    خیال کیا ہے جو الفاظ تک نہ پہنچے سازؔ

    جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : khamoshi bol uthi hai (Pg. 108)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے