Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے

بیخود دہلوی

ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے

بیخود دہلوی

MORE BYبیخود دہلوی

    ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے

    کس حسن کا ہے حسن ادا کس ادا کی ہے

    چشم سیاہ یار سے سازش حیا کی ہے

    لیلیٰ کے ساتھ میں یہ سہیلی بلا کی ہے

    تصویر کیوں دکھائیں تمہیں نام کیوں بتائیں

    لائے ہیں ہم کہیں سے کسی بے وفا کی ہے

    انداز مجھ سے اور ہیں دشمن سے اور ڈھنگ

    پہچان مجھ کو اپنی پرائی قضا کی ہے

    مغرور کیوں ہیں آپ جوانی پر اس قدر

    یہ میرے نام کی ہے یہ میری دعا کی ہے

    دشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا

    یہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے

    رہ رہ کے لے رہی ہے مرے دل میں چٹکیاں

    پھسلی ہوئی گرہ ترے بند قبا کی ہے

    گردن مڑی نگاہ لڑی بات کچھ نہ کی

    شوخی تو خیر آپ کی تمکیں بلا کی ہے

    ہوتی ہے روز بادہ کشوں کی دعا قبول

    اے محتسب یہ شان کریمی خدا کی ہے

    جتنے گلے تھے ان کے وہ سب دل سے دھل گئے

    جھیپی ہوئی نگاہ تلافی جفا کی ہے

    چھپتا ہے خون بھی کہیں مٹھی تو کھولیے

    رنگت یہی حنا کی یہی بو حنا کی ہے

    کہہ دو کہ بے وضو نہ چھوئے اس کو محتسب

    بوتل میں بند روح کسی پارسا کی ہے

    میں امتحان دے کے انہیں کیوں نہ مر گیا

    اب غیر سے بھی ان کو تمنا وفا کی ہے

    دیکھو تو جا کے حضرت بیخودؔ نہ ہوں کہیں

    دعوت شراب خانے میں اک پارسا کی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے نعمان شوق

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے