آزادی

MORE BYفراق گورکھپوری

    مری صدا ہے گل شمع شام آزادی

    سنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی

    لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

    اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

    مجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوں

    مری فنا سے ہے پیدا دوام آزادی

    جو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میں

    انہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادی

    بنائیں گے نئی دنیا کسان اور مزدور

    یہی سجائیں گے دیوان عام آزادی

    فضا میں جلتے دلوں سے دھواں سا اٹھتا ہے

    ارے یہ صبح غلامی یہ شام آزادی

    یہ مہر و ماہ یہ تارے یہ بام ہفت افلاک

    بہت بلند ہے ان سے مقام آزادی

    فضائے شام و سحر میں شفق جھلکتی ہے

    کہ جام میں ہے مئے لالہ فام آزادی

    سیاہ خانۂ دنیا کی ظلمتیں ہیں دو رنگ

    نہاں ہے صبح اسیری میں شام آزادی

    سکوں کا نام نہ لے ہے وہ قید بے میعاد

    ہے پے بہ پے حرکت میں قیام آزادی

    یہ کاروان ہیں پسماندگان منزل کے

    کہ رہروؤں میں یہی ہیں امام آزادی

    دلوں میں اہل زمیں کے ہے نیو اس کی مگر

    قصور خلد سے اونچا ہے بام آزادی

    وہاں بھی خاک نشینوں نے جھنڈے گاڑ دیئے

    ملا نہ اہل دول کو مقام آزادی

    ہمارے زور سے زنجیر تیرگی ٹوٹی

    ہمارا سوز ہے ماہ تمام آزادی

    ترنم سحری دے رہا ہے جو چھپ کر

    حریف صبح وطن ہے یہ شام آزادی

    ہمارے سینے میں شعلے بھڑک رہے ہیں فراقؔ

    ہماری سانس سے روشن ہے نام آزادی

    مأخذ :
    • کتاب : Urdu Mein Qaumi Shairi Ke Sau Saal (Pg. 376)
    • Author : Ali Jawad Zaidi
    • مطبع : Uttar Pradesh Urdu Acadmi (Lucknow) (1982,Editon II 2010)
    • اشاعت : 1982,Editon II 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY