حالی کا تصورِ سادگی: ملٹن کے ’سمپل‘ سے اردو کی ’سادگی‘ تک کا سفر
ملٹن نے لفظ 'Simple' کو منطقی استدلال کی سادگی کے معنوں میں استعمال کیا تھا، جسے کولرج اور حالی نے طرزِ ادا کی سادگی بنا کر اردو شاعری پر افادیت پرستی مسلط کر دی۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
ملٹن نے لفظ 'Simple' کو منطقی استدلال کی سادگی کے معنوں میں استعمال کیا تھا، جسے کولرج اور حالی نے طرزِ ادا کی سادگی بنا کر اردو شاعری پر افادیت پرستی مسلط کر دی۔
اس مضمون میں جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح مولانا حالی نے 'مقدمہ شعر و شاعری' کے ذریعے روایتی غزل کو مسترد کیا، لیکن اپنے تنقیدی نظریات کو اس طرح وضع کیا کہ ان کے استاد مرزا غالب کی عظمت پر کوئی آنچ نہ آئے۔
اکبر الہ آبادی
مرزا غالب
ریاضؔ خیرآبادی
نظام رامپوری
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی
اسماعیل میرٹھی
سردار گنڈا سنگھ مشرقی
ہاجر دہلوی
منیر شکوہ آبادی
منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
نواب امراوبہادر دلیر
قتیل شفائی
سید یوسف علی خاں ناظم
داغؔ دہلوی
بیان میرٹھی
شاہ اکبر داناپوری
فراق گورکھپوری
مومن خاں مومن
میر انیس
امیر مینائی