باقی صدیقی
غزل 34
اشعار 41
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے