Fazil Jamili's Photo'

فاضل جمیلی

1968 | کراچی, پاکستان

کراچی میں مقیم اردو کے معروف صحافی اور شاعر

کراچی میں مقیم اردو کے معروف صحافی اور شاعر

فاضل جمیلی

غزل 20

نظم 2

 

اشعار 18

پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے

نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا

زندگی ہو تو کئی کام نکل آتے ہیں

یاد آؤں گا کبھی میں بھی ضرورت میں اسے

مرے لیے نہ رک سکے تو کیا ہوا

جہاں کہیں ٹھہر گئے ہو خوش رہو

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا

مدت کے بعد آج میں آفس نہیں گیا

خود اپنے ساتھ بیٹھ کے دن بھر شراب پی

کتاب 1

 

ویڈیو 7

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
Ae darakhto'n tumhe'n jab kaat dya jaayega

اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے_گا فاضل جمیلی

Sarhadai'n

یہ سرحدیں.... پڑوسنیں فاضل جمیلی

suKHan jo us ne kahe the girah se baa.ndh liye

فاضل جمیلی

خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا

فاضل جمیلی

داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں_گے

فاضل جمیلی

شوقین مزاجوں کے رنگین طبیعت کے

فاضل جمیلی

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں

فاضل جمیلی

آڈیو 5

خزاں کا رنگ درختوں پہ آ کے بیٹھ گیا

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI