مصطفی شہاب

غزل 21

اشعار 22

ذہن میں یاد کے گھر ٹوٹنے لگتے ہیں شہابؔ

لوگ ہو جاتے ہیں جی جی کے پرانے کتنے

  • شیئر کیجیے

ایسا بھی کبھی ہو میں جسے خواب میں دیکھوں

جاگوں تو وہی خواب کی تعبیر بتائے

  • شیئر کیجیے

گو ترک تعلق میں بھی شامل ہیں کئی دکھ

بے کیف تعلق کے بھی آزار بہت ہیں

  • شیئر کیجیے

کہا تھا میں نے کھو کر بھی تجھے زندہ رہوں گا

وہ ایسا جھوٹ تھا جس کو نبھانا پڑ گیا ہے

  • شیئر کیجیے

میں سچ سے گریزاں ہوں اور جھوٹ پہ نادم ہوں

وہ سچ پہ پشیماں ہے اور جھوٹ پر آمادہ

  • شیئر کیجیے

کتاب 4

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے