Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Nazm Tabatabai's Photo'

نظم طبا طبائی

1854 - 1933 | لکھنؤ, انڈیا

نظم طبا طبائی کے اشعار

979
Favorite

باعتبار

بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کی

سنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف

اڑائی خاک جس صحرا میں تیرے واسطے میں نے

تھکا ماندہ ملا ان منزلوں میں آسماں مجھ کو

دل اس طرح ہوائے محبت میں جل گیا

بھڑکی کہیں نہ آگ نہ اٹھا دھواں کہیں

بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ

نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف

نشے میں سوجھتی ہے مجھے دور دور کی

ندی وہ سامنے ہے شراب طہور کی

جو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سے

نہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف

لوٹتے رہتے ہیں مجھ پر چاہنے والوں کے دل

ورنہ یوں پوشاک تیری ملگجی ہوتی نہیں

تو نے تو اپنے در سے مجھ کو اٹھا دیا ہے

پرچھائیں پھر رہی ہے میری اسی گلی میں

اپنی دنیا تو بنا لی تھی ریاکاروں نے

مل گیا خلد بھی اللہ کو پھسلانے سے

درد دل سے عشق کے بے پردگی ہوتی نہیں

اک چمک اٹھتی ہے لیکن روشنی ہوتی نہیں

کعبہ و بت خانہ عارف کی نظر سے دیکھیے

خواب دونوں ایک ہی ہیں فرق ہے تعبیر میں

مری باتوں میں کیا معلوم کب سوئے وہ کب جاگے

سرے سے اس لیے کہنی پڑی پھر داستاں مجھ کو

نظر کہیں نہیں اب آتے حضرت ناصح

سنا ہے گھر میں کسی مہ لقا کے بیٹھ گئے

روز سیہ میں ساتھ کوئی دے تو جانئے

جب تک فروغ شمع ہے پروانہ ساتھ ہے

اسیری میں بہار آئی ہے فریاد و فغاں کر لیں

نفس کو خوں فشاں کر لیں قفس کو بوستاں کر لیں

سحر کو اٹھتے ہیں وہ دیکھ کر کف رنگیں

اب آئنے پہ بھی سکے حنا کے بیٹھ گئے

یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف

ہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرف

کیا ہے اس نے ہر اک سے وصال کا وعدہ

اس اشتیاق میں مرنا ضروری ہوتا ہے

اڑ کے جاتی ہے مری خاک ادھر گاہ ادھر

کچھ پتا دے نہ گئی عمر گریزاں اپنا

یہ دل کی بے قراری خاک ہو کر بھی نہ جائے گی

سناتی ہے لب ساحل سے یہ ریگ رواں مجھ کو

Recitation

بولیے