Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rafi Raza's Photo'

رفیع رضا

1962 | ٹورنٹو, کناڈا

رفیع رضا

غزل 12

اشعار 10

میں سامنے سے اٹھا اور لو لرزنے لگی

چراغ جیسے کوئی بات کرنے والا تھا

میں سامنے سے اٹھا اور لو لرزنے لگی

چراغ جیسے کوئی بات کرنے والا تھا

دھوپ چھاؤں کا کوئی کھیل ہے بینائی بھی

آنکھ کو ڈھونڈ کے لایا ہوں تو منظر گم ہے

دھوپ چھاؤں کا کوئی کھیل ہے بینائی بھی

آنکھ کو ڈھونڈ کے لایا ہوں تو منظر گم ہے

ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

اس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہے

"ٹورنٹو" کے مزید شعرا

 

Recitation

بولیے