Rais Amrohvi's Photo'

رئیس امروہوی

1914 - 1988 | کراچی, پاکستان

رئیس امروہوی

غزل 42

نظم 5

 

اشعار 17

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

صرف تاریخ کی رفتار بدل جائے گی

نئی تاریخ کے وارث یہی انساں ہوں گے

ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ

یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم

آدمی کی تلاش میں ہے خدا

آدمی کو خدا نہیں ملتا

  • شیئر کیجیے

پہلے یہ شکر کہ ہم حد ادب سے نہ بڑھے

اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا

  • شیئر کیجیے

مزاحیہ 2

 

قطعہ 4

 

نعت 1

 

کتاب 33

ویڈیو 11

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

رئیس امروہوی

رئیس امروہوی

رئیس امروہوی

رئیس امروہوی

Reciting own poetry at a mushaira

رئیس امروہوی

غروب_مہر کا ماتم ہے گلستانوں میں

رئیس امروہوی

رئیس امروہوی

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

رئیس امروہوی

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

رئیس امروہوی

متعلقہ شعرا

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے