تمام
تعارف
غزل66
نظم101
شعر103
ای-کتاب57
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 33
آڈیو 37
ویڈیو 53
قطعہ4
قصہ3
گیلری 3
بلاگ4
دیگر
لوری1
گیت49
فلمی گیت8
ساحر لدھیانوی
غزل 66
نظم 101
اشعار 103
لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو
کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
قطعہ 4
قصہ 3
لوری 1
گیت 49
کتاب 57
تصویری شاعری 33
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم_بد_حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ_پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد_کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے