مصطفیٰ خاں شیفتہ کے اشعار
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
-
موضوع : ضرب المثل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
-
موضوع : ضرب المثل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا
اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا
فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ
بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ
بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی
شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی
جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے
جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے
بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے
بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے
کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر
کیا کوئی اور ستم یاد آیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر
کیا کوئی اور ستم یاد آیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ
طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں
آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ
طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں
کس تجاہل سے وہ کہتا ہے کہاں رہتے ہو
تیرے کوچے میں ستم گار ترے کوچے میں
کس تجاہل سے وہ کہتا ہے کہاں رہتے ہو
تیرے کوچے میں ستم گار ترے کوچے میں
اڑتی سی شیفتہؔ کی خبر کچھ سنی ہے آج
لیکن خدا کرے یہ خبر معتبر نہ ہو
اڑتی سی شیفتہؔ کی خبر کچھ سنی ہے آج
لیکن خدا کرے یہ خبر معتبر نہ ہو
اے تاب برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
کچھ رہ گئے ہیں خار و خس آشیاں ہنوز
اے تاب برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
کچھ رہ گئے ہیں خار و خس آشیاں ہنوز
دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو
چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو
دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو
چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو
شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں
شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں