Umar Ansari's Photo'

عمر انصاری

1912 - 2005 | لکھنؤ, انڈیا

عمر انصاری

غزل 8

اشعار 12

مسافروں سے محبت کی بات کر لیکن

مسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کر

  • شیئر کیجیے

باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہت

دل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہت

اٹھا یہ شور وہیں سے صداؤں کا کیوں کر

وہ آدمی تو سنا اپنے گھر میں تنہا تھا

چھپ کر نہ رہ سکے گا وہ ہم سے کہ اس کو ہم

پہچان لیں گے اس کی کسی اک ادا سے بھی

چلے جو دھوپ میں منزل تھی ان کی

ہمیں تو کھا گیا سایہ شجر کا

کتاب 14

تصویری شاعری 2

 

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI