aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گزرے دنوں کی یاد

احمد علی

گزرے دنوں کی یاد

احمد علی

MORE BYاحمد علی

    کہانی کی کہانی

    ہماری زندگی میں کبھی کبھی کوئی لمحہ ایسا آتا ہے جو بیتے دنوں کی ایک ایسی کھڑکی کھول دیتا ہے جس سے یادوں کی پوری بارات چلی آتی ہے۔ اس کہانی کا ہیرو بھی کسی ایسی ہی کشمکش کا شکار ہے۔ ایک دن اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ دوسری طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ بتائے کہ یہ آواز کس کی ہے۔ ہیرو اپنی یادداشت کے مطابق کئی لڑکیوں کے نام بتاتا ہے اور فون کرنے والی لڑکی سے مسلسل باتیں کیے جا رہا ہے۔ ذہن پر بہت زور دینے کے باوجود بھی یاد نہیں کر پاتا کہ آخر اس سے بات کرنے والی لڑکی کون ہے؟

    اب یہ بتانے سے کیا فائدہ کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں۔ بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میری زندگی میں تھوڑی سی راحت رہی ہے، لیکن زیادہ تر درد و درماں۔ اب تو رنج سہتے سہتے دل سن ہوچکا ہے اور یاد کی ورق گردانی کرتے کرتے دماغ کو ہر چیز دھندلی دھندلی معلوم ہوتی ہے۔ ماضی کے غبار کی تہیں جمتے جمتے ایک پپڑی سی جم گئی ہے اور اصلی سطح کانام ونشان بھی باقی نہیں۔

    زمانہ تھا کہ ہرچیز صاف دکھائی دیتی تھی اور جو کچھ بھی کان سنتے تھے اس میں صبح کے نغموں کی طرح ایک تازی گونج اور سنہری راگ تھا۔ لیکن اب تو ہر آواز ٹیلی فون کے تاروں پر بدلی بدلی سنائی دیتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی کوئی کوئی آواز کانوں کے میل کو پار کرتی ہوئی دل تک اترجاتی ہے اور دماغ میں پھر پرانا سا ہیجان پیدا کردیتی ہے اور وقت کے سیاہ پردوں کو پھاڑتی ہوئی ماضی سے نکل کر حال کی ساکت زندگی میں پھر ایک نئی امنگ اور جذبہ پیدا کردیتی ہے، جیسے ایک پتھر پانی میں چھوٹی چھوٹی لہریں پیدا کرکے اس کے سکوت کو برباد کردیتا ہے۔ حالانکہ تھوڑی ہی دیر میں ہر قطرہ پھر اپنی اپنی جگہ خاموش اور ساکت ہوجاتا ہے۔

    آج صبح کو ٹیلی فون پر کسی کی نرم اور جذبہ سے بھری آواز آئی۔ میں نے پوچھا کون ہے تو جواب ملا،

    ’’تم بتاؤ‘‘

    میں نہ تو کسی کے ٹیلی فون کا انتظار کر رہا تھا اور نہ مجھے یہ امید تھی کہ کوئی پرانی ہم نوا و ہم راز مجھ کو اتفاقیہ یاد کرےگی۔ چنانچہ جو نام بھی میرے منھ میں آیا میں نے لے ڈالا،

    ’’شیلا۔‘‘

    ’’اور بتاؤ۔‘‘

    میں نے جواب دیا، ’’سنتوش‘‘ لیکن افسوس کہ یہ بھی غلط تھا۔ میں نے فوراً ہی کہا، ’’مایا۔‘‘

    ’’خیر کوئی بات نہیں۔ خداحافظ۔‘‘ لیکن ’’خداحافظ‘‘ کہتے وقت آواز درد سے کانپی اور خاموش انجان میں کھو گئی۔

    میں دل مسوس کے رہ گیا۔ میرے دل میں گرمی سی دوڑ گئی اور میرے کان بجلی کی تیزگام لیکن ہلکی لہروں سے ہلنے لگے اور گرم ہو گیے۔ پھر اس اتفاقی ہیجان سے میرا خون رگوں میں رک گیا۔ میں نے بھی کیا غلطی کی جو اور عورتوں کے نام یکے بعد دیگرے لے ڈالے۔ میں اپنی غلطی پر اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگا۔ یہ حالت کچھ دیر قائم رہی۔ آواز بہت پیاری اور محبت کے ہیجان پیدا کرنے والے جذبہ سے بھری ہوئی تھی۔ بولنے والی کوئی درد بھری محبوبہ تھی۔ مگر وقت نے میرے کانوں پر کچھ ایسا پردہ ڈال دیا تھا کہ وہ حسن کی اصلیت کو پہنچنے سے قاصر تھے۔ مجھے کب اس سے محبت تھی؟ اس نے مجھ سے کیا کیا پیار کی باتیں کی ہوں گی میں نے کس کس طرح اپنی محبت کااظہار کیا ہوگا؟ لیکن محبت کے درد سے میں اب کچھ ایسا سن ہو گیا ہوں کہ اس نئی چوٹ کو بھی بھلانے کی کوشش کرتا رہا۔ اگر کوئی چیز ہاتھ سے جاتی رہی ہو اور اتفاق سے پھر وہی چیز اندھیرے میں قریب سے آکر کان میں وہی محبت بھرے جملے دہرائے اور پھر تاریکی میں غائب ہوجائے تو قلق اور بھی سوا ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت میری ہوئی۔

    پھر میں نے کہا کہ آواز سے ابھی تک محبت ٹپکتی تھی اور ان تینوں عورتوں کے نام لینے سے اس کی رقابت اور بھی بڑھ گئی اس لیے اس نے ٹیلی فون رکھ دیا۔ لیکن جب اس کے دل میں رقابت کی آگ ابھی تک باقی تھی تو یقیناً اس کے دل میں میری محبت بھی باقی ہے اور وہ دوبارہ بات کرےگی۔ کیا پچھلی محبت پھر موج میں آ جائےگی؟ پھر وہی سمندر ہوگا اور وہی پریم کی کشتی اور میں پھر جذبات کے چپوؤں سے حسن کی ناؤ کھیتا ہوں گا۔

    اگر میں ان لڑکیوں کے نام نہ لیتا تو شاید وہ مجھے اپنا نام بنا دیتی۔ ان جانے ہوئے ناموں نے مجھ کو اس کا نام جاننے سے محروم رکھا۔ مجھے تو کہنا چاہئے تھا کہ چونکہ مجھے اتنی کم لڑکیاں یاد کرتی ہیں کہ دور دراز کی آواز کو پہچاننا ممکن نہیں اور یہ کہ میری موجودہ زندگی کی غلاظت سے حسن دور بھاگتا ہے۔ مجھے کہنا چاہیے تھا کہ آواز دلگداز اور پیاری ہے۔

    میں ان خیالوں میں غلطاں و پیچاں تھا اور حالانکہ میں اپنے دل کو یہ سب کہہ کر تسکین دے رہا تھا لیکن ایک انجان جذبہ سے میرے ہاتھ پیر کمزور ہو گیے تھے۔ مگر ٹیلی فون کی گھنٹی پھر بجی۔ وہی دلکش آواز فاصلہ کی مجبوریوں کو عبور کرتی ہوئی درخت اور دریا اور پہاڑوں کو کودتی پھاندتی تیز روی پر ثابت قدمی سے پھر آئی۔ اس میں وہی درد اور وہی جذبہ تھا۔

    ’’نہ تو میں شیلاہوں‘‘اس نے کہا، ’’نہ سنتوش اور نہ مایا۔ میں ماضی کی ایک آواز ہوں۔ میں کون ہوں؟ یہ تم بتاؤ۔ کیا میں ابھی تک تم کو یاد ہوں؟‘‘

    میں نے کہا، ’’آواز بہت دلکش اور دلگداز ہے۔ ا س میں درد ہے اور محبت بھی۔ لیکن تم جانتی ہو کہ ٹیلی فون پر آواز کا پہچاننا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ آواز بدل جاتی ہے اور اس کے علاوہ تمہیں زکام بھی معلوم ہوتا ہے، اس لیے پہچاننے میں دقت ہو رہی ہے۔‘‘

    ’’یہ تو ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے کہا۔

    ’’تو اس لیے یہ کہہ دینا کہ کس کی آواز ہے بہت مشکل ہے۔‘‘

    ’’یہ کوئی بات نہیں۔‘‘

    مجھے واجد علی شاہ کی درد بھری ٹھمری یاد آ گئی،

    یہ کوئی بات نہیں، تم جاؤ للہ، جو بھئی سوبھئی۔

    لیکن میں نے ماضی کے درد کو ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ میرے دل میں درحقیقت محبت کا درد پھر ابھر آیا تھا اور حالانکہ میں آواز سے اس کے جسم کے نقوش نہ دیکھ سکتا، حالانکہ میں یہ بھی نہ بتا سکتا تھا کہ وہ کون ہے، تاہم اس کی آواز میں ماضی کا سمندر موجیں لے رہا تھا، جب کہ زندگی میں احساس تھا، حسن میں شوخی اور عشق میں گرمی موجود۔ آواز اس ماضی کی تھی جب میں زندہ تھا۔ یہ کہ وہ ماضی کی آواز تھی اس میں ذرہ برابر شک نہیں۔ میرے دل نے مجھے فوراً بتا دیا تھا کہ آواز حال کی آواز نہ تھی۔ اسی لیے بغیر سوچے سمجھے جو نام میری زبان پر آئے وہ ماضی ہی سے تعلق رکھتے تھے، کسی اور زندگی سے جو حال سے صدیوں دور ہے۔ ایک اور نام میرے منہ پر آتے آتے رہ گیا۔ اگر وہ ذرا اور ٹیلی فون کو بند نہ کرتی تو میں چوتھا نام بھی لے دیتا۔ ایک پانچواں نام بھی میرے ذہن میں تھا جس کو میں اب دہرانا چاہتا تھا۔ وہ کون تھی اور کیا تھی؟ خالی یہ کہہ دینا کہ وہ ماضی کی آواز تھی کافی نہیں۔ بہت سی عورتیں تھیں جن سے مجھ کو محبت رہی ہے۔ اپنے دور میں ہر ایک لاجواب اور حسین تھی۔ وہ میری دلربا محبوبائیں تھیں اور میں ان کا سوگوار عاشق۔ لیکن اور بھی رہی ہوں گی جن کی محبت مجھ پر کبھی ظاہر نہ ہوئی، جن کو میں نے اپنی محبت کاقصہ کبھی نہ کہہ سنایا تھا۔ وہ تو میرے دل میں ایک ٹیس بن کے رہ گئی تھیں، وہی ٹیس جو اس وقت میرے گھائل سینہ میں پھر اٹھ رہی ہے۔ اب پچھلے قصے دہرانے سے کیا ہوتا ہے؟

    تم جاؤ للہ جو بھئی سو بھئی۔۔۔

    زندگی ایک بند گنبد ہے۔ اس کونے میں ماضی ہے، اس میں حال، اس میں مستقبل۔ ماضی پر سے پردہ ہٹ چکا ہے اوراس کی تصویر ایک سبزہ زار کی طرح پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ میدان ہے، یہ دریا اور یہ پہاڑ، یہ سمندر اور سمندر کے پرے اور بھی ملک ہیں اور یہاں بھی مختلف یادیں مرغزاروں اور وادیوں میں میری محبوباؤں کی شکل میں رقصاں ہیں۔ یہ لیلا ہے، یہ مایا، یہ سنتوش، یہ سلیمہ ہے۔ یہ اینجیلا۔ ہر گوشہ میں ایک ایک تصویر ہے اور ہر ایک کے بیچ بیچ میں اور تصویریں ہیں۔ یہ وہ آنکھیں ہیں جو نرگس سے زیادہ نرم اور عشق سے زائد بیمار ہیں۔ ان میں سفیدی ہے، سیاہی ہے اور خون کی سرخی۔ محبت کے نشہ سے آنکھیں چور ہیں، جذبہ میں دل کی ہم راز۔ ان کی تہ میں میرے دل کی قبر ہے اور ان کی چمک میں میرے عشق کی آگ۔ اب بھی میرے مردہ دل میں وہ گھر کیے ہیں، اب بھی ان کا جادو میرے خون میں پوشیدہ ہے۔

    یہ وہ با نہیں ہیں جو میری گردن میں دن و رات پڑی رہتی تھیں، جن کی گرمی رگ جاں سے میرے دل تک پہنچتی تھی۔ یہ وہ کولہے ہیں جو اپنی بناوٹ اور خوبصورتی میں یونان کی بت گری کو مات کرتے تھے۔ یہ وہ بال ہیں جو میرے شانوں کو سردی سے محفوظ رکھتے تھے، جو اپنی سیاہی میں ستاروں کی آب و تاب لیے تھے، یہ وہ چھاتیاں ہیں جو میرے سینہ کو تسلی بخشتی تھیں۔ لیکن اب تو خواب ہو گئیں یہ باتیں۔ حسن ناپائیدار سہی، یاد ناپائیدار نہیں۔ عشق لازوال ہے پر دل پارہ کی طرح بے قرار اور وقت ہر چیز پر خاک ڈال دیتا ہے۔ ان باتوں کو دہرانے سے اب فائدہ؟ صرف ایک یاد ہے جو پر سے زیادہ ہلکی ہے اور پہاڑوں سے زیادہ بھاری۔

    ’’اگر تم ہنسو تو شاید میں تمہارا نام بتا سکوں۔‘‘

    دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔

    ’’اچھا اب میں خدا حافظ کہتی ہوں۔‘‘

    ’’ذرا ٹھہرو۔ دیکھو میرے سامنے ایک تصویر رکھی ہے۔ ایک ترکی بچہ نے بنائی ہے۔ تین گھوڑے ہیں۔ نچلا چھوٹا، بھدا، بے ہنگم ہے۔ ایک بَونے کی طرح۔ اس کے اوپر والا لمبا ہے اور اس کے عیال کسی ڈراؤنے اور بھیانک گرگٹ کی خاردار دم کی طرح ہیں۔ تیسرا ایک مچھلی کی طرح ہوا میں اڑ رہا ہے۔۔۔‘‘

    ادھر سے ایک دبی ہوئی ہنسی کی آواز آئی، لیکن پوری طرح کھلنے نہ پائی تھی کہ بند ہو گئی۔

    ’’تم نے تو ہنسی بھی روک لی۔۔۔‘‘

    ’’خیر، کوئی بات نہیں۔‘‘ آواز میں ابھی تک وہی نرمی اور محبت، وہی جذبہ تھا۔

    ’’میں تو صرف اتنا پوچھنا چاہتی تھی کہ تم کیسے ہو۔۔۔‘‘

    میں جو محبت سے مایوس ہو چکا تھا یہ ہرگز نہ جانتا تھا کہ ابھی تک کسی کے دکھے ہوئے دل میں میری یادباقی ہے۔ میں جو محبت کو بھول چکا تھا اس بات کا یقین نہ کر سکتا تھا کہ کوئی ایسا بھی ہے جس کو اگلی محبت یاد ہے، جس کے پہلو میں دل ہے اور دل میں سوز و ساز۔ میرا دل تو مر چکا ہے، اس میں نہ تو امید کی کرن باقی ہے نہ عشق کا داغ۔ اگلی بہاریں کب کی خزاں بن چکیں، حسن والوں نے چمن کے پھول لوٹ کر مسل ڈالے۔ دنیا نے میرے سب غروروں کو مٹا دیا تھا۔ میرے خواب اور میری ناممکن توقعات غیر حقیقی ثابت ہو چکی تھیں۔ جب تک مجھ سے بن پڑا میں اپنے خوابوں کو سینہ سے چمٹائے رہا، لیکن بندر کے مرے ہوئے بچہ کی طرح وہ آخرکار ایک ایک کرکے مجھ سے جدا ہو گیے۔ چونکہ میری توقعات بہت گہری تھیں، میری خواہشات اس دنیا کے لیے ناممکن، اس لیے وہ کبھی پوری نہ ہو سکیں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ خواب پورے ہو سکتے ہیں، امیدیں بر آ جاتی ہیں، لیکن صرف اسی وقت جب کہ انسان اس چیز پر قانع رہے جو میسر ہو سکتی ہے۔ مگر جوں جوں خواہشیں پوری ہوتی جاتی ہیں انسان اور سوا مشکل اور ناممکن خواہشیں کرنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ پاس کی چیز ہاتھ آتی ہے اور نہ توقعات ہی پوری ہوتی ہیں۔

    زندگی ایک غبار ہے، جب تک ہوا میں رہا آندھی رہا جب بیٹھ گیا تو ریت بن گیا۔ میں نے آندھی کی تمنا میں آنکھیں بھی کھوئیں اور نہ کچھ حاصل کیا اور نہ پایا۔ اب تو آندھی جم کے رہ گئی ہے، نہ آگے ہی بڑھتی ہے اور نہ مطلع صاف ہوتا ہے، ایک مستقل ریت کی جھڑی ہے کہ دن رات برستی ہے، نہ کھلتی ہے اور نہ ہیجان ہی پیدا کرتی ہے۔ جب تک ہو سکا میں دنیا سے لڑتا رہا اور پھر بجائے اس چیز پر قناعت کرنے کے جو مل سکتی تھی تھک ہار کے بیٹھ رہا اور اب جب کہ ماحصل قریب تھا، جب کہ میں کم از کم اپنے خیال میں اس بات کے لیے تیار تھا کہ اس تک پہنچ کے آرام کروں تو منزل ایک سراب نکلی۔ نہیں وہ قریب تھی پر کمند دو چار ہاتھ چھوٹی رہی اور میں اس تک نہ پہنچ سکا۔

    ’’خدا کے لیے اب تو نام بتا دو۔‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔

    ’’اب اس سے کیا حاصل؟‘‘ وہ نہ جانتی تھی کہ شاید مرجھائے ہوئے پھول پھر زندہ ہو جائیں۔ وہ تو محبت کے غرور سے ابھی تک بھری ہوئی تھی لیکن میں زندگی کی مار سے بےجان ہو چکا تھا۔ وہ شاید اس خیال میں تھی کہ میں ابھی تک وہی عاشق ہوں، لیکن میرا دل بجھ کے راکھ ہو گیا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی گرمی سے میرے دل میں بھی دوبارہ گرمی آ جاتی۔

    ’’صرف اتنا بتادو کہ تم کیسے ہو۔‘‘

    ’’بس زندہ ہوں۔ نہ مرتا ہوں نہ جیتا ہوں۔ ماضی کی آگ بھڑک کے بجھ گئی۔ مشینوں نے زندگی کی امنگ چھین لی، نہ وہ خوش رنگی رہی نہ جوش۔ اب تو فقط یاد ہی یاد باقی ہے اور اس میں بھی سوز باقی نہیں۔ تمہاری آواز سن کے جیسے جان میں جان آئی اور وقت کے سیاہ پردے ہٹتے نظر آتے ہیں۔۔۔‘‘

    میری گفتگو کے بیچ بیچ میں وہ آہستہ آہستہ ہوں ہوں کہتی رہی پر اتنے ہلکے سے جیسے وہ اپنے دل کو اس احتیاط سے مسل رہی ہو کہ جذبہ کی آواز مجھ کو نہ سنائی دے۔ مگر تار اور رکاوٹیں بیکار ثابت ہوئیں اور اس کی کوشش کے باوجود بھی اس کے دل کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی۔

    ’’لیکن تمہیں میرا نام تک تو معلوم نہیں۔‘‘

    میرے دل پر چوٹ لگی۔ کاش کہ میں اس کا نام بتا سکتا۔ محبت مجھ سے باتیں کر رہی تھی۔ میں اس کے سانس تک کی آواز سن رہا تھا، لیکن کیا مجبوری کا عالم تھا کہ رگِ جاں کی طرح قریب ہوتے ہوئے بھی میں اس کو نہ چھو سکتا تھا۔ زندگی ہوا میں ایک کاغذ کی طرح الٹتی پلٹتی معلوم ہونے لگی۔ سورج کی روشنی کونوں کھدروں میں پڑ رہی تھی اور یاد مجھ سے بہت دور فضا میں گھوم رہی تھی۔

    ’’تم مجھ سے دور ہو۔ اگر تم مجھ کو میرا پتہ دو تو میں تم کو ڈھونڈلوں گا۔‘‘

    ’’اب کیا فائدہ۔ میں رات کو جا رہی ہوں۔‘‘

    ’’اس لیے تم سے ملنا اور بھی ضروری ہے۔‘‘

    وہ ہچکچائی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کی قوت ارادی کمزور ہو چلی تھی اور وہ مجھے اپنا نام بتانے ہی والی تھی، لیکن اس نے کہا،

    ’’نہیں، اب جانے دو۔ میں بند کرتی ہوں۔۔۔‘‘

    درد اور یاس اور تمنا کی مجبوری سے میں نے کہا، ’’نہیں نہیں، ذرا ٹھہرو، میں تمہارا نام بتائے دیتا ہوں۔۔۔‘‘

    ’’اچھا خدا حافظ۔۔۔‘‘

    ’’دیکھو، دیکھو، نینا۔۔۔‘‘ میں نے اس کا نام لے ہی ڈالا۔ وہ ذرا دیر، بس ایک لمحہ کو جھجکی اور کہا، ’’خدا حافظ۔۔۔‘‘

    میں بے جان ٹیلی فون کو بڑی دیر تک کان سے لگائے رہا۔ پھر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے رکھ دیا۔ کیا وہ نینا تھی؟ میں کچھ نہ کہہ سکتا تھا۔ میرے دل نے اس بات کی گواہی نہ دی۔ یہ ایک اور نام تھا جو میں نے پہلے ناموں کی طرح لے دیا تھا۔ نہ جانے اس نے سنا بھی یا نہیں۔ میں نے نام بہت آہستہ سے لیا تھا۔ غالباً یہ بھی غلط تھا۔

    میں سوچتا رہا کہ وہ آخر کون تھی۔ میرا دماغ معطل ہو چکا تھا۔ ماضی سے تصویریں نکل کر میری آنکھوں کے سامنے نہ آئیں۔ میرے ذہن میں بہت سے نام بیک وقت آئے اور پھر سب ایک دوسرے میں مل کر کھو گیے۔ صرف ایک ہیجان اور جذبہ کی کیفیت مجھ پہ طاری رہی جس میں سب محبتیں اور سارا ماضی موجود تھا۔ آواز کسی معمولی محبوبہ کی آواز نہ تھی۔ اس میں نہ صرف میرا ماضی گونج رہاتھا بلکہ محبت بھی۔میرا دل رونے لگا، میری روح سوگوار تھی۔ یاد ایک جذبہ بن کے میرے اندر سما گئی۔

    عورت کادل کس قدر سخت اور ملایم ہوتا ہے۔ جب میں عشق کرتا تھا تو اس کا دل پتھر تھا اور اب جب کہ وہ محبت میں مبتلا تھی تو اس کا دل موم تھا۔ لیکن یاد کے برفانی طوفان نے اس کو اور بھی جما دیا اور موم بھی میرے لیے سنگ خارا بن گیا۔ اس نے دیکھ لیا کہ وہ اکیلی میرے دل میں نہ بستی تھی۔ ماضی کی اور بھی آوازیں اس میں بند تھیں۔ لیکن وہ نہ جانتی تھی کہ میرا دل اب ویرانہ ہے۔ اس کی چٹانیں ٹوٹ ٹوٹ کر ریت بن چکی ہیں اور اب ماضی کی آوازیں بھی اس میں نہیں گونجتیں۔ اس وقت جب کہ وہ خود بولی تو میں پرانی آواز بازگشت نہ سن سکا۔ صرف اس کی آواز ہی آواز کان میں آئی لیکن اس کی مضراب نے وہ خاص پرانا نغمہ نہ چھیڑا جس کو سن کر وہ مست ہو جاتی۔ میرے دل کے ساز میں اب موسیقی پیدا کرنے کی طاقت ہی باقی نہ رہی تھی۔ صرف یاد ابھر آئی، لیکن یاد بھی ایسی جس میں آوازیں اور جذبات سب مل کے ایک ہو گیے تھے اور نہ تو میں ان کو علیحدہ علیحدہ کر سکتا تھا اور نہ الگ الگ کرکے ایک کو ایک سے جوڑ سکتا۔

    یاد ایک پر کی طرح ہلکی پھلکی بھی ہوتی ہے اور ایک پہاڑ کی طرح بھاری بھی۔ میں یادوں کے بار کو اپنے دل میں لیے پھرتا ہوں۔ ان کے قافلے میرے دماغ میں گشت کرتے ہیں، لیکن مجھے بوجھ تک نہیں معلوم ہوتا۔ وہ اکیلی سب محبوبائیں بھی تھی اور کوئی بھی نہ تھی۔ میں نہ تو وہ ہونٹ دیکھ سکتا تھا جن کی شیرینی کے مزے میری زبان ابھی تک لے رہی تھی نہ وہ ریشم کی طرح نرم چھاتیاں میرے پژمردہ سینہ کو تسکین دے رہی تھیں۔ نہ تو بانہیں میرے گلے میں تھیں نہ وہ آنکھیں اپنی محبت کے جادو سے مجھ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔ لیکن وہ سب جذبات ایک یاد بن کے میرے اندر سما گیے تھے اور ماضی کا راگ میرے کانوں میں بج رہا تھا۔

    کیا وہ سب واقعی زندہ حقیقتیں تھیں؟ کیا وہ واقعی اصلیت کا پتہ دے رہی تھیں؟ لیکن نہ کسی عورت کومجھ سے محبت تھی نہ میں نے ہی کبھی کسی سے عشق کیا۔ یہ سب میرے تخیل کی تصویریں تھیں جو پٹ بخیبوں کی طرح چمکیں اور غائب ہو گئیں۔ نہ میں تھا نہ وہ تھیں نہ محبت۔ میرے ہونے نے ان کو مجھ سے چھین لیا۔ زندگی بہت کٹھن، درد انگیز اور سنگ لاخ ہے۔

    مأخذ:

    قید خانہ (Pg. 93)

    • مصنف: احمد علی
      • ناشر: انشا پریس، دہلی
      • سن اشاعت: 1944

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے