میں محبت میں بہت سوں کو خدا مانتا ہوں
تم کسی ایک کا پوچھو گے تو ماں بولوں گا
شعر کہہ کے گزار سکتے ہیں
زندگی ہو یا ماں کا دن کاشفؔ
جبینوں پر نشاں سجدوں کے ہیں ہاتھوں میں شمشیریں
عقیدے نے تشدد کے بدن کو اوڑھ رکھا ہے
-
موضوع : طنز
آپ کی بھکتی نہ جب تک ہو تو کیا حاصل مجھے
قید دنیا سے اگر ہو جاؤں میں آزاد بھی
تمہاری بھی حفاظت ہم کریں گے
تمہارے پھر خدا ہونے کا مطلب