Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ازل پر اشعار

میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس

صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

جون ایلیا

میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس

صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

جون ایلیا

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ

چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

محسن نقوی

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ

چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

محسن نقوی

ازل سے تا بہ ابد ایک ہی کہانی ہے

اسی سے ہم کو نئی داستاں بنانی ہے

کالی داس گپتا رضا

ازل سے تا بہ ابد ایک ہی کہانی ہے

اسی سے ہم کو نئی داستاں بنانی ہے

کالی داس گپتا رضا

کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سے

لیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہی

قادر صدیقی

کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سے

لیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہی

قادر صدیقی

میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں

ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

شبلی نعمانی

میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں

ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

شبلی نعمانی

ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں

ازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا

بیان میرٹھی

ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں

ازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا

بیان میرٹھی

دست جنوں نے پھاڑ کے پھینکا ادھر ادھر

دامن ابد میں ہے تو گریباں ازل میں ہے

اسد علی خان قلق

دست جنوں نے پھاڑ کے پھینکا ادھر ادھر

دامن ابد میں ہے تو گریباں ازل میں ہے

اسد علی خان قلق

واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں

منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم

ذوالفقار عادل

واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں

منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم

ذوالفقار عادل

ازل سے میری حفاظت کا فرض ہے ان پر

سبھی دکھوں کو میرے آس پاس ہونا ہے

راہل جھا

ازل سے میری حفاظت کا فرض ہے ان پر

سبھی دکھوں کو میرے آس پاس ہونا ہے

راہل جھا

روک لیتا ہے ابد وقت کے اس پار کی راہ

دوسری سمت سے جاؤں تو ازل پڑتا ہے

عرفان ستار

روک لیتا ہے ابد وقت کے اس پار کی راہ

دوسری سمت سے جاؤں تو ازل پڑتا ہے

عرفان ستار

مری زمین پہ پھیلا ہے آسمان عدم

ازل سے میرے زمانے پہ اک زمانہ ہے

شہباز رضوی

مری زمین پہ پھیلا ہے آسمان عدم

ازل سے میرے زمانے پہ اک زمانہ ہے

شہباز رضوی

ازل سے ہم نفسی ہے جو جان جاں سے ہمیں

پیام دم بدم آتا ہے لا مکاں سے ہمیں

ساحر دہلوی

ازل سے ہم نفسی ہے جو جان جاں سے ہمیں

پیام دم بدم آتا ہے لا مکاں سے ہمیں

ساحر دہلوی

خط پیشانی میں سفاک ازل کے دن سے

تیری تلوار سے لکھی ہے شہادت میری

شباب

خط پیشانی میں سفاک ازل کے دن سے

تیری تلوار سے لکھی ہے شہادت میری

شباب
بولیے