Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ناز پر اشعار

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے

آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر آئینے کے سامنے حسن و آرائش کرنے والوں کی بات کو اپنے حق میں ایک طنزیہ دعوے میں بدل دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ میری شان اور دلکشی ایسی ہے کہ جو لوگ مجھے گرانا یا مروا دینا چاہتے ہیں، وہی حسد اور جھنجھلاہٹ میں اندر سے ٹوٹ جائیں گے۔ “بے موت مرنا” یہاں حسرت و حسد سے جلنے کا استعارہ ہے۔ لہجہ فخر آمیز اور چبھتا ہوا ہے۔

داغؔ دہلوی

حشر تک بے گنہی ناز کرے گی مجھ پر

وہ مرا تیری نگاہوں میں برا ہو جانا

شاذ تمکنت

ضبط غم وفور شوق اور دل ناصبور عشق

مجھ کو تو ہے غرور عشق آپ کو ناز ہو نہ ہو

حیات امروہوی

نازکی قامت زیبا کی بیاں کیا کیجے

پیرہن بھی جہاں اسلوب نزاکت مانگے

اسحاق اطہر صدیقی
بولیے