رکشا بندھن پر اشعار
کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا
اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا
بہن کا پیار جدائی سے کم نہیں ہوتا
اگر وہ دور بھی جائے تو غم نہیں ہوتا
بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے
یا رب مری دعاؤں میں اتنا اثر رہے
پھولوں بھرا سدا مری بہنا کا گھر رہے
زندگی بھر کی حفاظت کی قسم کھاتے ہوئے
بھائی کے ہاتھ پے اک بہن نے راکھی باندھی
گلشن سے کوئی پھول میسر نہ جب ہوا
تتلی نے راکھی باندھ دی کانٹے کی نوک پر
بہنوں کی محبت کی ہے عظمت کی علامت
راکھی کا ہے تہوار محبت کی علامت
آستھا کا رنگ آ جائے اگر ماحول میں
ایک راکھی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے آج
بندھن سا اک بندھا تھا رگ و پے سے جسم میں
مرنے کے بعد ہاتھ سے موتی بکھر گئے
-
موضوعات : زندگیاور 1 مزید
ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاں
نمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاں
راکھیاں لے کے سلونوں کی برہمن نکلیں
تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی پل