مجھ کو عطا ہوا ہے یہ کیسا لباس زیست
بڑھتے ہیں جس کے چاک برابر رفو کے ساتھ
-
موضوعات : دنیااور 2 مزید
یہ ناقدری ہماری اس لیے ہے
ترا ہونے میں جلدی کر گئے ہم
جواں ہوئی مری بیٹی تو ہاتھ خالی ہیں
تمام عمر تو بہنیں بیاہتا رہا میں
جو ہم پہ گزری ہے اس کا نہیں الم کوئی
غم حسین سے بڑھ کر نہیں ہے غم کوئی
نیزہ ہو کہ پیالہ لب انکار سلامت
یہ سلسلہ سقراط سے شبیر تلک ہے
میں ہواؤں سے لڑا ہوں جس کی خاطر عمر بھر
اس دئیے نے ہی مرے گھر کو جلا کر رکھ دیا
پاسبانی کرتے کرتے اس کی آنکھیں بجھ گئیں
عمر بھر جو خواہش تعمیر در کرتا رہا
جگہ جگہ تھے بھنور عشق کے سمندر میں
وہ خود بھی ڈوب گیا تھا مجھے بچاتے ہوے
اک حیات نو چھپی ہے کربلا کی راہ میں
کربلا راہ عمل ہے منزل ماتم نہیں
وہی ناقدریٔ ابنائے جہاں ہے لیکن
جاں نثاری وہی ایمان وفا آج بھی ہے