Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قربانی پر اشعار

مجھ کو عطا ہوا ہے یہ کیسا لباس زیست

بڑھتے ہیں جس کے چاک برابر رفو کے ساتھ

شکیل جاذب

نیزہ ہو کہ پیالہ لب انکار سلامت

یہ سلسلہ سقراط سے شبیر تلک ہے

راز احتشام

جگہ جگہ تھے بھنور عشق کے سمندر میں

وہ خود بھی ڈوب گیا تھا مجھے بچاتے ہوے

فیض عالم بابر

پاسبانی کرتے کرتے اس کی آنکھیں بجھ گئیں

عمر بھر جو خواہش تعمیر در کرتا رہا

فیض عالم بابر

میں ہواؤں سے لڑا ہوں جس کی خاطر عمر بھر

اس دئیے نے ہی مرے گھر کو جلا کر رکھ دیا

دپیش شرما سوبھری
بولیے