مجھ کو عطا ہوا ہے یہ کیسا لباس زیست
بڑھتے ہیں جس کے چاک برابر رفو کے ساتھ
-
موضوعات : دنیااور 2 مزید
نیزہ ہو کہ پیالہ لب انکار سلامت
یہ سلسلہ سقراط سے شبیر تلک ہے
جگہ جگہ تھے بھنور عشق کے سمندر میں
وہ خود بھی ڈوب گیا تھا مجھے بچاتے ہوے
پاسبانی کرتے کرتے اس کی آنکھیں بجھ گئیں
عمر بھر جو خواہش تعمیر در کرتا رہا
میں ہواؤں سے لڑا ہوں جس کی خاطر عمر بھر
اس دئیے نے ہی مرے گھر کو جلا کر رکھ دیا