خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں
کوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے
-
موضوعات : آوازاور 1 مزید
اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے
آج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کے
-
موضوع : بہار
میں تیرے ہدیۂ فرقت پہ کیسے نازاں ہوں
مری جبیں پہ ترا زخم تک حسین نہیں
تڑپ رہا ہے جو بیتاب ہو کے زخموں سے
یہ راستے میں مرے دل کے ہو بہو کیا ہے
نئے زخم لاتی ہے باد صبا
چمن میں ہر اک پھول بیمار ہے
-
موضوعات : باداور 1 مزید
کھل رہے ہیں گلاب زخموں کے
شکریہ آپ کی نوازش کا
-
موضوع : گلاب
جب اس نے ہار کے خنجر زمیں پہ پھینک دیا
تمام زخم جگر مسکرائے ہیں کیا کیا
-
موضوع : خنجر
آج کس کی جان سے کھیلو گے اے چارہ گرو
آج پہلو میں مرے زخم جگر کوئی نہیں
-
موضوع : چارہ گر
کسی کے ہاتھ ہی راضی نہ تھے رفو کے لئے
وگرنہ زخم حد اندمال تک آئے
-
موضوع : رفو
درد کی چاہ میں پہلے تو کریدوں شب بھر
پھر اسی زخم کو سینے کا مزا لیتا ہوں
زخم گنتی تھیں انگلیاں اپنے
کوشش آئینہ گری ہوئی تھی
-
موضوع : آئینہ
چارہ گر مرہم بھرے گا تو کہاں
روح تک ہیں زخم کی گہرائیاں
-
موضوع : چارہ گر
زخم گہرے ہیں مگر اف بھی نہیں کر سکتا
اچھی لگتی نہیں اپنوں کی برائی مجھ کو
وہی جو آدھی رات کو چراغ بن کے جل اٹھا
کسی کی یاد کا نہیں وہ زخم کا نشان ہے
-
موضوعات : چراغاور 1 مزید
تا عمر ترا نقش فروزاں رہے مجھ میں
اک زخم کی صورت مرے ماتھے پہ ابھر جا
میں نے ہر زخم بہاراں کو چھپا رکھا ہے
مجھ سے مجروح گلستاں کا بھرم ہو تو کہو