Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ahmad Husain Mail's Photo'

احمد حسین مائل

1857/58 - 1914

حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی، رباعی گوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی، رباعی گوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

احمد حسین مائل کے اشعار

7.6K
Favorite

باعتبار

مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی

غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج

مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی

غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج

دور سے یوں دیا مجھے بوسہ

ہونٹ کی ہونٹ کو خبر نہ ہوئی

دور سے یوں دیا مجھے بوسہ

ہونٹ کی ہونٹ کو خبر نہ ہوئی

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

اگرچہ وہ بے پردہ آئے ہوئے ہیں

چھپانے کی چیزیں چھپائے ہوئے ہیں

اگرچہ وہ بے پردہ آئے ہوئے ہیں

چھپانے کی چیزیں چھپائے ہوئے ہیں

جتنے اچھے ہیں میں ہوں ان میں برا

ہیں برے جتنے ان میں اچھا ہوں

جتنے اچھے ہیں میں ہوں ان میں برا

ہیں برے جتنے ان میں اچھا ہوں

جو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ

ہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض

جو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ

ہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض

نیند سے اٹھ کر وہ کہنا یاد ہے

تم کو کیا سوجھی یہ آدھی رات کو

نیند سے اٹھ کر وہ کہنا یاد ہے

تم کو کیا سوجھی یہ آدھی رات کو

محبت نے مائلؔ کیا ہر کسی کو

کسی پر کسی کو کسی پر کسی کو

محبت نے مائلؔ کیا ہر کسی کو

کسی پر کسی کو کسی پر کسی کو

رمضاں میں تو نہ جا رو بہ رو ان کے مائلؔ

قبل افطار بدل جائے گی نیت تیری

رمضاں میں تو نہ جا رو بہ رو ان کے مائلؔ

قبل افطار بدل جائے گی نیت تیری

توبہ کھڑی ہے در پہ جو فریاد کے لئے

یہ مے کدہ بھی کیا کسی قاضی کا گھر ہوا

توبہ کھڑی ہے در پہ جو فریاد کے لئے

یہ مے کدہ بھی کیا کسی قاضی کا گھر ہوا

مسلماں کافروں میں ہوں مسلمانوں میں کافر ہوں

کہ قرآں سر پہ بت آنکھوں میں ہے زنار پہلو میں

مسلماں کافروں میں ہوں مسلمانوں میں کافر ہوں

کہ قرآں سر پہ بت آنکھوں میں ہے زنار پہلو میں

تم کو معلوم جوانی کا مزا ہے کہ نہیں

خواب ہی میں کبھی کچھ کام ہوا ہے کہ نہیں

تم کو معلوم جوانی کا مزا ہے کہ نہیں

خواب ہی میں کبھی کچھ کام ہوا ہے کہ نہیں

وہ رات آئے کہ سر تیرا لے کے بازو پر

تجھے سلاؤں بیاں کر کے میں فسانۂ عشق

وہ رات آئے کہ سر تیرا لے کے بازو پر

تجھے سلاؤں بیاں کر کے میں فسانۂ عشق

کھول کر زلف مسلسل کو پڑھی اس نے نماز

گھر میں اللہ کے بھی جال بچھا کر آیا

کھول کر زلف مسلسل کو پڑھی اس نے نماز

گھر میں اللہ کے بھی جال بچھا کر آیا

غیر کا حال تو کہتا ہوں نجومی بن کر

آپ بیتی نہیں معلوم وہ نادان ہوں میں

غیر کا حال تو کہتا ہوں نجومی بن کر

آپ بیتی نہیں معلوم وہ نادان ہوں میں

میں ہی مومن میں ہی کافر میں ہی کعبہ میں ہی دیر

خود کو میں سجدے کروں گا دل میں تم ہو دل میں تم

میں ہی مومن میں ہی کافر میں ہی کعبہ میں ہی دیر

خود کو میں سجدے کروں گا دل میں تم ہو دل میں تم

تم گلے مل کر جو کہتے ہو کہ اب حد سے نہ بڑھ

ہاتھ تو گردن میں ہیں ہم پاؤں پھیلائیں گے کیا

تم گلے مل کر جو کہتے ہو کہ اب حد سے نہ بڑھ

ہاتھ تو گردن میں ہیں ہم پاؤں پھیلائیں گے کیا

وعدہ کیا ہے غیر سے اور وہ بھی وصل کا

کلی کرو حضور ہوا ہے دہن خراب

وعدہ کیا ہے غیر سے اور وہ بھی وصل کا

کلی کرو حضور ہوا ہے دہن خراب

واعظ کا اعتراض یہ بت ہیں خدا نہیں

میرا یہ اعتقاد کہ جلوے خدا کے ہیں

واعظ کا اعتراض یہ بت ہیں خدا نہیں

میرا یہ اعتقاد کہ جلوے خدا کے ہیں

بند قبا میں باندھ لیا لے کے دل مرا

سینہ پہ اس کے پھول کھلا ہے گلاب کا

بند قبا میں باندھ لیا لے کے دل مرا

سینہ پہ اس کے پھول کھلا ہے گلاب کا

ناز کر ناز ترے ناز پہ ہے ناز مجھے

میری تنہائی ہے پرتو تری یکتائی کا

ناز کر ناز ترے ناز پہ ہے ناز مجھے

میری تنہائی ہے پرتو تری یکتائی کا

میرا سلام عشق علیہ السلام کو

خسرو ادھر خراب ادھر کوہ کن خراب

میرا سلام عشق علیہ السلام کو

خسرو ادھر خراب ادھر کوہ کن خراب

کچھ نہ پوچھو زاہدوں کے باطن و ظاہر کا حال

ہے اندھیرا گھر میں اور باہر دھواں بتی چراغ

کچھ نہ پوچھو زاہدوں کے باطن و ظاہر کا حال

ہے اندھیرا گھر میں اور باہر دھواں بتی چراغ

جو آئے حشر میں وہ سب کو مارتے آئے

جدھر نگاہ پھری چوٹ پر لگائی چوٹ

جو آئے حشر میں وہ سب کو مارتے آئے

جدھر نگاہ پھری چوٹ پر لگائی چوٹ

نئی صدا ہو نئے ہونٹ ہوں نیا لہجہ

نئی زباں سے کہو گر کہوں فسانۂ عشق

نئی صدا ہو نئے ہونٹ ہوں نیا لہجہ

نئی زباں سے کہو گر کہوں فسانۂ عشق

Recitation

بولیے