Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Alamtaab Tishna's Photo'

عالم تاب تشنہ

1935 - 1991 | کراچی, پاکستان

عالم تاب تشنہ کے اشعار

2.4K
Favorite

باعتبار

وصال یار کی خواہش میں اکثر

چراغ شام سے پہلے جلا ہوں

وصال یار کی خواہش میں اکثر

چراغ شام سے پہلے جلا ہوں

نفرت بھی اسی سے ہے پرستش بھی اسی کی

اس دل سا کوئی ہم نے تو کافر نہیں دیکھا

نفرت بھی اسی سے ہے پرستش بھی اسی کی

اس دل سا کوئی ہم نے تو کافر نہیں دیکھا

ہم اپنے عشق کی اب اور کیا شہادت دیں

ہمیں ہمارے رقیبوں نے معتبر جانا

ہم اپنے عشق کی اب اور کیا شہادت دیں

ہمیں ہمارے رقیبوں نے معتبر جانا

ہر دور میں رہا یہی آئین منصفی

جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دئیے گئے

ہر دور میں رہا یہی آئین منصفی

جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دئیے گئے

اس راہ محبت میں تو ساتھ اگر ہوتا

ہر گام پہ گل کھلتے خوشبو کا سفر ہوتا

اس راہ محبت میں تو ساتھ اگر ہوتا

ہر گام پہ گل کھلتے خوشبو کا سفر ہوتا

حد ہو گئی تھی ہم سے محبت میں کفر کی

جیسے خدا نخواستہ وہ لاشریک تھا

حد ہو گئی تھی ہم سے محبت میں کفر کی

جیسے خدا نخواستہ وہ لاشریک تھا

میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں رات کو تنہا

چراغ لے کے کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے

میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں رات کو تنہا

چراغ لے کے کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے

یہ کہنا ہار نہ مانی کبھی اندھیروں سے

بجھے چراغ تو دل کو جلا لیا کہنا

یہ کہنا ہار نہ مانی کبھی اندھیروں سے

بجھے چراغ تو دل کو جلا لیا کہنا

میں تجھ کو چاہوں تو ایسا کہ خود فنا ہو جاؤں

مرا وجود ترا آئنہ دکھائی دے

میں تجھ کو چاہوں تو ایسا کہ خود فنا ہو جاؤں

مرا وجود ترا آئنہ دکھائی دے

پہلے نصاب عقل ہوا ہم سے انتساب

پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے

پہلے نصاب عقل ہوا ہم سے انتساب

پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے

یہ کہنا تم سے بچھڑ کر بکھر گیا تشنہؔ

کہ جیسے ہاتھ سے گر جائے آئینہ کہنا

یہ کہنا تم سے بچھڑ کر بکھر گیا تشنہؔ

کہ جیسے ہاتھ سے گر جائے آئینہ کہنا

بن کے تعبیر بھی آیا ہوتا

نت نئے خواب دکھانے والا

بن کے تعبیر بھی آیا ہوتا

نت نئے خواب دکھانے والا

ما سوائے کار آہ و اشک کیا ہے عشق میں

ہے سواد آب و آتش دیدہ و دل کے قریب

ما سوائے کار آہ و اشک کیا ہے عشق میں

ہے سواد آب و آتش دیدہ و دل کے قریب

تمام عمر کی دیوانگی کے بعد کھلا

میں تیری ذات میں پنہاں تھا اور تو میں تھا

تمام عمر کی دیوانگی کے بعد کھلا

میں تیری ذات میں پنہاں تھا اور تو میں تھا

شوریدگی کو ہیں سبھی آسودگی نصیب

وہ شہر میں ہے کیا جو بیابان میں نہیں

شوریدگی کو ہیں سبھی آسودگی نصیب

وہ شہر میں ہے کیا جو بیابان میں نہیں

Recitation

بولیے