حفیظ میرٹھی کے اشعار
وہ وقت کا جہاز تھا کرتا لحاظ کیا
میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا
-
موضوع : وقت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
رات کو رات کہہ دیا میں نے
سنتے ہی بوکھلا گئی دنیا
اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھ
لو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھی
بد تر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگی
مر جائیو مگر یہ گوارا نہ کیجیو
یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرا
دنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیا
رنگ آنکھوں کے لیے بو ہے دماغوں کے لیے
پھول کو ہاتھ لگانے کی ضرورت کیا ہے
یہ ہنر بھی بڑا ضروری ہے
کتنا جھک کر کسے سلام کرو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔ
دل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہے
ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کے
ابھی میں بزم میں آیا ابھی کہاں بولا
کیا جانے کیا سبب ہے کہ جی چاہتا ہے آج
روتے ہی جائیں سامنے تم کو بٹھا کے ہم
اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گی
یہ دور اشارات و کنایات نہیں ہے
کبھی کبھی ہمیں دنیا حسین لگتی تھی
کبھی کبھی تری آنکھوں میں پیار دیکھتے تھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہے
آنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی اجالا کیا کرے
محبت چیخ بھی خاموشی بھی نغمہ بھی نعرہ بھی
یہ اک مضمون ہے کتنے ہی عنوانوں سے وابستہ
شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئے
محترم کی بات کو جھٹلائیں کیا
مے خانے کی سمت نہ دیکھو
جانے کون نظر آ جائے
-
موضوع : مے کدہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
رسا ہوں یا نہ ہوں نالے یہ نالوں کا مقدر ہے
حفیظؔ آنسو بہا کر جی تو ہلکا کر لیا میں نے
ہائے وہ نغمہ جس کا مغنی
گاتا جائے روتا جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بزم تکلفات سجانے میں رہ گیا
میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ