ابراہیم اشکؔ
غزل 18
اشعار 19
بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دوہا 3
کتاب 17
تصویری شاعری 2
ویڈیو 16
This video is playing from YouTube