aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Natiq Lakhnavi's Photo'

ناطق لکھنوی

1878 - 1950 | لکھنؤ, انڈیا

ناطق لکھنوی کے اشعار

9.4K
Favorite

باعتبار

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح

میں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح

مر مر کے اگر شام تو رو رو کے سحر کی

یوں زندگی ہم نے تری دوری میں بسر کی

ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی یہ ہے سرگزشت

پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بے ہوش ہے

دل ہے کس کا جس میں ارماں آپ کا رہتا نہیں

فرق اتنا ہے کہ سب کہتے ہیں میں کہتا نہیں

آزادیوں کا حق نہ ادا ہم سے ہو سکا

انجام یہ ہوا کہ گرفتار ہو گئے

دل رہے یا نہ رہے زخم بھرے یا نہ بھرے

چارہ سازوں کی خوشامد مجھے منظور نہیں

میکشو مے کی کمی بیشی پہ ناحق جوش ہے

یہ تو ساقی جانتا ہے کس کو کتنا ہوش ہے

اک داغ دل نے مجھ کو دیئے بے شمار داغ

پیدا ہوئے ہزار چراغ اس چراغ سے

ان کے لب پر ذکر آیا بے حجابانہ میرا

منزل تکمیل تک پہونچا اب افسانہ میرا

دو عالم سے گزر کے بھی دل عاشق ہے آوارہ

ابھی تک یہ مسافر اپنی منزل پر نہیں آیا

محبت آشنا دل مذہب و ملت کو کیا جانے

ہوئی روشن جہاں بھی شمع پروانہ وہیں آیا

مری جانب سے ان کے دل میں کس شکوے پہ کینہ ہے

وہ شکوہ جو زباں پر کیا ابھی دل میں نہیں آیا

صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی

ہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھی

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے