ساغر خیامی کے اشعار
مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے
دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے
کتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آم تیری یہ خوش نصیبی ہے
ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے
کتنے چہرے لگے ہیں چہروں پر
کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس وقت مجھ کو دعوت جام و سبو ملی
جس وقت میں گناہ کے قابل نہیں رہا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کون کہتا ہے بلندی پہ نہیں ہوں ساغرؔ
میری معراج محبت مری رسوائی ہے
چہرے تو جھریوں سے بھرے دل جوان ہیں
دن میں ہیں شیخ رات میں سلمان خان ہیں
آئی صدائے حق کہ یہی بند و بست ہیں
تیرے وطن کے لوگ تو مردہ پرست ہیں
ان کے گناہ کیا کہیں کس کس کے سر گئے
تم کو خبر نہیں کئی استاد مر گئے
ہمارے لال کو درکار ہے وہی لڑکی
کہ جس کا باپ پولس میں ہو کم سے کم ڈپٹی
آخر کو میں نے چرب زبانی سے ہار کر
یہ کہہ دیا کہ ٹھیک ہے کتے سے پیار کر
آدمی شیطان سے آگے ہے ہر ہر عیب میں
رہنے کو اچھا مکاں ہے اور جنت جیب میں
جانتے ہیں دوستو! جن کی نظر باریک ہے
بس کے دروازہ سے جنت کس قدر نزدیک ہے
وہ ہی مقام غالبؔ و اقبالؔ پائیں گے
موٹی دموں کے سامنے جو دم ہلائیں گے
وہ زباں جو ہے فراقؔ و شادؔ و شنکرؔ کی زباں
اس زباں کی کیوں مسلمانی کئے دیتے ہیں آپ
جو تھے عروض داں وہ روایت میں بند تھے
بے بہرہ جو گدھے تھے ترقی پسند تھے