سراج فیصل خان
غزل 18
نظم 24
اشعار 34
کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں
ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ہمیں رنجش نہیں دریا سے کوئی
سلامت گر رہے صحرا ہمارا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ترے احساس میں ڈوبا ہوا میں
کبھی صحرا کبھی دریا ہوا میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
شاید اگلی اک کوشش تقدیر بدل دے
زہر تو جب جی چاہے کھایا جا سکتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دشت جیسی اجاڑ ہیں آنکھیں
ان دریچوں سے خواب کیا جھانکیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے