Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Umair Manzar's Photo'

عمیر منظر

1974 | لکھنؤ, انڈیا

عمیر منظر

غزل 6

اشعار 11

بڑھتے چلے گئے جو وہ منزل کو پا گئے

میں پتھروں سے پاؤں بچانے میں رہ گیا

ساتھی مرے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے

میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا

یہاں ہم نے کسی سے دل لگایا ہی نہیں منظرؔ

کہ اس دنیا سے آخر ایک دن بے زار ہونا تھا

یہ میرے ساتھی ہیں پیارے ساتھی مگر انہیں بھی نہیں گوارا

میں اپنی وحشت کے مقبرے سے نئی تمنا کے خواب دیکھوں

مرحلے اور آنے والے ہیں

تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ

کتاب 38

ویڈیو 14

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

عمیر منظر

Oomair Manzar is reciting his poetry at Rekhta Studio. He is from Azangarh and teaching at Lucknow University. عمیر منظر

آڈیو 5

بنا کے وہم و گماں کی دنیا حقیقتوں کے سراب دیکھوں

جب انسان کو اپنا کچھ ادراک ہوا

خود کو ہر روز امتحان میں رکھ

Recitation

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے