ظریف لکھنوی
غزل 11
نظم 1
اشعار 13
چائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتے
در حقیقت لب معشوق جو شکر ہوتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہمیں بتلا نہ دیں عاشق جو ہیں روئے کتابی پر
سبق ہے کیا کوئی معشوق جس کو یاد کرتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ظریفؔ اب فائدہ کیا شاعروں کو سردی کھانے سے
غزل ہم پڑھ چکے گھر جائیں کیوں بیکار بیٹھے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے