عاشق پر اشعار
عاشق پر یہ شعری انتخاب
عاشق کے کردار کی رنگا رنگ طرفوں کو موضوع بناتا ہے ۔ عاشق جن لمحوں کو جیتا ہے ان کی کیفیتیں کیا ہوتی ہیں ، وہ دکھ ، درد ، بےچینی ، امید وناامیدی کن احساسات سے گزرتا ہے یہ سب اس شعری انتخاب میں ہے ۔ یہ شاعری اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ ہم سب اس آئینے میں اپنی اپنی شکلیں دیکھ سکتے ہیں اور اپنی شناخت کر سکتے ہیں ۔
چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں عاشقوں کی انفرادیت پر حیرت بھی ہے اور تحسین بھی۔ ان کی “انوکھی وضع” اس بات کی علامت ہے کہ سچا عشق عام لوگوں کے طور طریقوں اور مصلحتوں سے بلند ہوتا ہے۔ شاعر “یارب” کہہ کر اس فرق کو ایک روحانی نسبت بنا دیتا ہے، گویا یہ لوگ کسی اور ہی جہان/بستی کے ہیں۔ مرکزی جذبہ: عشق کی غیر معمولی کیفیت پر تعجب اور احترام۔
دکھاوا ہی کرنا ہے تو پھر بڑا کر
تو شاعر نہیں خود کو عاشق کہا کر
یہ عاشقی ترے بس کی نہیں سو رہنے دے
کہ تیرا کام تو بس نا سپاس ہونا ہے
تیرا عاشق تیرے قدموں سے لپٹ جائے گا
روٹھنے والے تجھے آج منانے کے لئے
-
موضوع : التجا
وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری
اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے
-
موضوعات : دلاور 1 مزید