Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عاشق پر اشعار

عاشق پر یہ شعری انتخاب

عاشق کے کردار کی رنگا رنگ طرفوں کو موضوع بناتا ہے ۔ عاشق جن لمحوں کو جیتا ہے ان کی کیفیتیں کیا ہوتی ہیں ، وہ دکھ ، درد ، بےچینی ، امید وناامیدی کن احساسات سے گزرتا ہے یہ سب اس شعری انتخاب میں ہے ۔ یہ شاعری اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ ہم سب اس آئینے میں اپنی اپنی شکلیں دیکھ سکتے ہیں اور اپنی شناخت کر سکتے ہیں ۔

چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

فدوی لاہوری

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں عاشقوں کی انفرادیت پر حیرت بھی ہے اور تحسین بھی۔ ان کی “انوکھی وضع” اس بات کی علامت ہے کہ سچا عشق عام لوگوں کے طور طریقوں اور مصلحتوں سے بلند ہوتا ہے۔ شاعر “یارب” کہہ کر اس فرق کو ایک روحانی نسبت بنا دیتا ہے، گویا یہ لوگ کسی اور ہی جہان/بستی کے ہیں۔ مرکزی جذبہ: عشق کی غیر معمولی کیفیت پر تعجب اور احترام۔

علامہ اقبال

دکھاوا ہی کرنا ہے تو پھر بڑا کر

تو شاعر نہیں خود کو عاشق کہا کر

اننت گپتا

یہ عاشقی ترے بس کی نہیں سو رہنے دے

کہ تیرا کام تو بس نا سپاس ہونا ہے

راہل جھا

آنکھوں کے گلابی ڈوروں میں اک کیف سا پایا جاتا ہے

مے خوار محبت ہوش میں آ ساقی کی نظر ہے جام نہیں

فضل لکھنوی

تیرا عاشق تیرے قدموں سے لپٹ جائے گا

روٹھنے والے تجھے آج منانے کے لئے

اشراق عزیزی

وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری

اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے

کیف بھوپالی
بولیے