Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

برگ پر اشعار

پھولوں کو سرخی دینے میں

پتے پیلے ہو جاتے ہیں

فہمی بدایونی

آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر

تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے

اسعد بدایونی

شاخوں سے برگ گل نہیں جھڑتے ہیں باغ میں

زیور اتر رہا ہے عروس بہار کا

امیر مینائی

سب کو پھول اور کلیاں بانٹو ہم کو دو سوکھے پتے

یہ کیسے تحفے لائے ہو یہ کیا برگ فروشی ہے

جمیل ملک

شجر تر نہ یہاں برگ شناسا کوئی

اس قرینے سے سجایا ہے یہ منظر کس نے

حمید الماس

لے آئے گا اک روز گل و برگ بھی ثروتؔ

باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا

ثروت حسین

شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ

ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے

فیصل عجمی

کیا جانے شاخ وقت سے کس وقت گر پڑوں

مانند برگ زرد ابھی ڈولتا ہوں میں

عمران الحق چوہان

برگ گل آ میں تیرے بوسے لوں

تجھ میں ہے ڈھنگ یار کے لب کا

سخی لکھنوی
بولیے