بے ثباتی پر اشعار
زندگی کی بے ثباتی کا
موضوع شاعروں کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ یہی وہ واحد سچ ہےجس سے انکار کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ گزرتا ہوا ہرلمحہ ہمیں بے ثباتی کے اسی احساس سے بھرتا ہے ۔ زندگی کی تمام چمک دمک فنا پذیری کی طرف رواں دواں ہے ۔ یہ شاعری پڑھئے اوراس احساس کو تازہ کیجئے ۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
سانس بھی دھیرے لو، کیونکہ یہ معاملہ بہت نازک ہے۔
یہ ساری کائنات شیشہ گری کی کارگاہ کی طرح ہے، جہاں ذرا سی جنبش سے ٹوٹ پھوٹ ہو جاتی ہے۔
میر تقی میر نے آفاق کو شیشہ گر کی کارگاہ کہا ہے: خوب صورتی بھی ہے مگر ذرا سی لغزش سے ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ “سانس آہستہ” دراصل زندگی میں حد درجہ احتیاط کی تلقین ہے کہ وجود کی ہر چیز نازک ہے۔ اس میں ایک دبھی ہوئی گھبراہٹ اور تعظیم بھی ہے—دنیا قیمتی ہے مگر ناپائیدار۔ شعر ہمیں گفتار و کردار میں نرمی اور ہوشیاری سکھاتا ہے۔
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
میں نے کہا کہ پھول کی زندگی کتنی کم اور کتنی ناپائیدار ہے۔
یہ بات سن کر کلی ہلکا سا مسکرا دی۔
شعر میں گل حسن و زندگی کی علامت ہے اور اس کا ثبات بہت کم بتایا گیا ہے۔ کلی کا تبسم ایک نرم سا طنز بھی ہے اور ایک وقار بھری رضامندی بھی کہ وہ انجام جانتے ہوئے بھی کھلنے کو تیار ہے۔ یوں ناپائیداری کے احساس کے ساتھ جینے کی خاموش ہمت سامنے آتی ہے۔
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی
کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے
-
موضوع : زندگی
بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی
ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ہیں
بے ثباتی زمانے کی ناچار
کرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے
اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت
کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
اب میری جان اس خاکی جسم سے بہت بیزار ہو چکی ہے۔
میں کب تک مٹی کی اس ایک ٹوکری کو اٹھائے پھروں؟
شاعر جان اور جسم کے تضاد کو دکھاتا ہے: جسمِ خاکی ایک بوجھ بن گیا ہے اور جان اس کی قید سے تنگ ہے۔ “ٹوکری مٹی” کہہ کر بدن کو محض مٹی کا ڈھیر بتایا گیا ہے، جو آخرکار خاک میں مل جانا ہے۔ اس میں تھکن، بےزاری اور رہائی کی خواہش کی گہری کیفیت ہے۔
-
موضوعات : جسماور 1 مزید
پل میں منش ہے رام پجاری پل میں چیلا راون کا
پاپ اور پن کے بیچ کا دھاگا دیکھو کتنا کچا ہے
-
موضوع : گناہ